تیونس : مردہ شیرخوار بچوں کو کارٹن میں حوالے کیے جانے پر ہنگامہ برپا
تیونس میں خراب دوا دیے جانے پر ہسپتال میں موت کا شکار ہونے والے شیرخوار بچوں کو ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کارٹن کے ڈبوں میں ان کے گھر والوں کے حوالے کیے جانے پر ملک بھر میں غم و غصے کی وسیع لہر دوڑ گئی ہے۔ مردہ شیرخوار بچوں کو حوالے کیے جانے کے اس طریقے کو "سنگ دلانہ اور غیر انسانی" قرار دیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک مردہ شیرخوار بچے کی تصویر گردش میں ہے جس میں یہ بچہ سفید کپڑے کے ٹکڑے میں لپٹا ہوا ایک کارٹن کے اندر نظر آ رہا ہے اور یہ کارٹن لکڑی کی ایک میز پر رکھا ہوا ہے۔ ایک دوسری تصویر میں نومولود کے اہل خانہ مرد ہبچے کو ایک "سیلڈ" کارٹن کے اندر رکھ کر لے جا رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنان نے اپنا غصہ ہسپتال کے منتظمین اور ورکروں پر اتارا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان لوگوں نے غفلت، عدم توجہی اور غیر پیشہ وارانہ رجحان کا مظاہرہ کرتے ہوئے خراب اور قابل استعمال کی تاریخ گزر جانے والی دوائیں دے کر شیرخوار بچوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ علاوہ ازیں ان مردہ بچوں کو انتہائی توہین آمیز طریقے سے ان کے گھر والوں کے حوالے کیا گیا۔
تاہم دوسری جانب محکمہ صحت کی ڈائریکٹر جنرل نبیہہ البورصالی نے اس طریقہ کار کے توہین آمیز ہونے کی نفی کی ہے۔ انہوں نے باور کرایا ہے کہ شیرخوار بچوں کی لاشوں کو کارٹن میں ان کے گھر والوں کے حوالے کیا جانا "معمول کے مطابق طریقہ کار" ہے۔ البورصالی کے مطابق بلدیہ مردہ شیرخوار بچوں کے لیے خصوصی بکس فراہم نہیں کرتی ہے اور ہسپتالوں کو صرف بڑوں کی لاشیں منتقل کرنے کے واسطے استعمال میں آنے والے بکس دیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ ہفتے کے روز تیونس کے دارالحکومت میں ایک ہسپتال میں ایک دن کے اندر 11 نومولود بچوں کے فوت ہو جانے کا اعلان کیا گیا۔ ان بچوں کو جعلی اور خراب دوا کی خوراک دے دی گئی تھی۔ اس "ناگہانی" نے وزیر صحت عبدالرؤوف الشريف کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ حکام نے واقعے کے ذمے داران کا تعین کرنے اور مزید تفصیلات جاننے کے لیے وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔