.

پیرس میں زرد صدری تحریک کے مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں، دکانوں میں لوٹ مار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں زرد صدری تحریک کے مظاہرین مسلسل اٹھارویں ہفتے صدر عمانوایل ماکروں کی حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور ان کی دارالحکومت پیرس میں پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔بعض مظاہرین نے دکانوں میں لوٹ مار کی ہے۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران میں زرد صدری تحریک کے مظاہرین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی تھی لیکن اس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ آج مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ انھیں مزید گروپوں نے اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔ مظاہرے کے منتظمین نے ایک آن لائن اپیل میں کہا کہ وہ اس ہفتے کے دن کو حکومت اور طاقتور طبقات کے لیے الٹی میٹم بنانا چاہتے ہیں۔

مظاہرین نے حسب روایت پیرس کے وسط میں واقع چیمپس ایلزے کی جانب مارچ کیا ہے ۔انھوں نے وہاں تعینات پولیس اہلکاروں کی جانب آتش گیر مواد اور دوسری اشیاء پھینکیں اور پولیس کی ایک وین کے شیشے توڑنے کی کوشش کی۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا ہے۔

مظاہرین کے ایک گروپ نے چیمس ایلزے اسکوائر میں ایک گاڑی کو آگ لگادی ہے اور بعض نے وہاں دکانوں اور اسٹور وں میں لوٹ مار کی ہے۔پولیس نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ا س نے دوپہر تک بیس مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔

فرانسیسی دارالحکومت میں آج گذشتہ ہفتوں کی نسبت احتجاجی مظاہرے میں زیادہ افراد کی شرکت متوقع تھی۔اس کے پیش نظر پولیس کی مزید نفری تعینات کی گئی ہے۔پولیس نےشہر میں متعدد شاہراہیں ٹریفک کے لیے بند کردی ہیں اور رائٹ بنک کے گردا گرد باڑ لگا دی ہے۔

عمانو ایل حکومت کے خلاف گذشتہ چار ماہ سے جاری اس زرد صدری تحریک میں اساتذہ ، بے روزگار افراد اور مزدور یونینوں کے کارکنان پیش پیش رہے ہیں۔وہ ٹیکسوں کی بلند شرح ، مہنگائی اور صدر ماکروں کی کاروباری طبقے کے حق میں پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ فرانسیسی صدر نے گذشتہ سال کے اوائل میں اقتصادی اصلاحات کے نام پر ایندھن پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کردیا تھا جس کے خلاف ہزاروں شہریوں نے ’’زرد صدریاں‘‘ پہن کر احتجاجی مظاہرے کیے ہیں ۔ ’’زردصدری تحریک‘‘ 17 نومبر کو پیٹرول پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کے خلاف شروع ہوئی تھی اور ابتدا میں ڈرائیوروں نے صدائے احتجاج بلند کی تھی لیکن اب اس تحریک کے کارکنان فرانس میں مہنگے رہن سہن کے خلاف بھی آواز اٹھا رہے ہیں اور وہ لوگوں کا معیار ِزندگی بہتر بنانے اور اجرتوں میں اضافے کے مطالبات کررہے ہیں ۔