ہمارے معاملات میں دخل اندازی نہ کریں : الجزائر کے عوام الاخوان کے آڑے آ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

الجزائر میں جمہوری سیاسی تبدیلی کے مطالبے کے لیے عوامی احتجاج کے آغاز کے ایک ماہ بعد الاخوان المسلمین تنظیم کی قیادت کی جانب سے تشدد پر اکسانے اور فتنہ بھڑکانے کے واسطے مداخلت پر الجزائری مظاہرین چراغ پا ہو گئے ہیں۔ عوام نے الاخوان کی جانب سے ان کی پر امن تحریک "ہائی جیک" کرنے کی کوشش مسترد کر دی ہے اور احتجاجی ریلیوں کو انارکی کی جانب دھکیلنے کی مساعی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی چوتھی مدت صدارت کی توسیع کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کو ہائی جیک کرنے کی کوشش اس وقت ظاہر ہوئی جب الجزائر میں الاخوانی رہ نما اور جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ فرنٹ جماعت کے سربراہ عبداللہ جاب اللہ نے سڑکوں پر آ کر ریلیوں میں دراندازی کی کوشش کی۔ تاہم مظاہرین نے جاب اللہ اور ان کی جماعت کے کسی بھی کردار کو مسترد کرتے ہوئے ان کوششوں کو زور دار طمانچہ رسید کیا۔

عوامی تحریک کے شدت اختیار کرنے کے ساتھ سرحد پار سے بھی الجزائر کے سیاسی منظر نامے میں داخل ہونے کی الاخوانی کوششیں جاری رہیں۔ ترکی میں مقیم الاخوانی رہ نما وجدی غنیم نے اپنے یوٹیوب چینل پر الجزائریوں کے نام ایک تقریر میں حکومت اور فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ غنیم نے الجزائریوں کو اس بات پر اکسایا کہ وہ "حکومتی نظام کے خلاف جہاد کے لیے نکلیں اور اسلامی شریعت کو نافذ کریں"۔ غنیم نے الجزائر میں الاخوان کے عناصر کو بھی ایک خفیہ پیغام پہنچایا کہ وہ جمہوری تبدیلی کا مطالبہ کرنے والی عوامی تحریک کو ہائی جیک کرنے کے لیے سڑکوں پر آئیں۔

ادھر معروف دہشت گرد عمر محمود عثمان عُرف ابو قتادہ الفلسطینی نے بھی عوامی تحریک میں مداخلت کرتے ہوئے ایک وڈیو کلپ میں یہ کال دی کہ مظاہروں کو "اسلامی شریعت" کے نفاذ کے لیے استعمال کیا جائے۔ ابو قتادہ نے 1990ء کی دہائی میں الجزائر میں خانہ جنگی کے مرکزی ذمے دار علی بلحاج کو ملک کا صدر بنانے کا مطالبہ کیا۔

تاہم الجزائریوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے الاخوان کے ان رہ نماؤں کو "دین کے تاجر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

اس سلسلے میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن حوريہ عیش نے اپنے بلاگ میں کہا کہ "اس معاملے کا آپ لوگوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ ہمارے لیے ہمارا اسلام ہے اور آپ کو اپنا اسلام مبارک ہو۔ بس کر دیں ... آپ نے مذہب کے نام پر بہت جانیں لے لیں ... بس کریں دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی بند کریں"۔

ایک اور بلاگر محمد ہمیداش نے الاخوان کے تخریبی ایجنڈے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ لوگ حق، قانون اور مساوات پر مبنی ریاست بننے کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے کیوں کہ یہ تمام امور ان کے نزدیک کفر اور زندیقیت ہے۔ خبردار ! الجزائریوں ان کے اسلامی شریعت کے نفاذ کے نعروں میں نہ آنا"۔

ایک اور سرگرم کارکن عامر شابت نے باور کرایا کہ ان "دہشت گردوں" کا بنیادی مقصد "الجزائر کو سبوتاژ کرنا اور قتل و غارت پر اکسانا ہے... مگر ہم بطور الجزائری شہری ان لوگوں کے لیے کوئی موقع فراہم نہیں کریں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں