نیوزی لینڈ :'دہشت گرد' کی بہن نے بھائی کو سزائے موت کا مستحق قرار دیا

نمازیوں کے قتل عام پرقاتل کی ہمشیرہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ جمعہ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائیسٹ چرچ میں دو مساجد میں 50 نمازیوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کرنے والے آسٹریلوی دہشت گرد کی بہن نے بھی بھائی کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک ٹی وی انٹرویو میں 28 سالہ دہشت گرد برنٹن ٹارنٹ کی ہمشیرہ کو مساجد میں نمازیوں کے قتل عام کی ویڈیو دکھانے کی کوشش کی گئی تو وہ فوٹیج دیکھنے کی ہمت نہ کرسکیں اور پھوت پھوڑ کر رو پڑیں۔

جب نامہ نگار نے اس سے پوچھا کہ وہ اپنے بھائی کے اس سنگین جرم پر کیا رائے رکھتی ہے تو اس کا کہنا تھا کہ اگرچہ ٹارنٹ ان کے خاندان کا فرد ہے مگر وہ مجرم اور دہشت گرد ہے جو کسی ہمدری اور رحم کا مستحق نہیں۔ اس نے 50 معصوم لوگوں کی جان لی ہے اور وہ عبرت ناک سزائے موت کا مستحق ہے۔

دہشت گرد کی ہمشیرہ کا کہنا تھا کہ خاندان کا کوئی فرد برنٹن ٹارنٹ کے ساتھ ہمدردی نہیں کرتا اور نہ ہی خاندان کی طرف سے اسے کوئی سپورٹ حاصل ہے۔ اس کے سنگین جرم پرہم سب دکھ اور صدمے سے دوچار ہیں۔

کل ہفتے کے روز آسٹریلوی دہشت گرد کو نیوزی لینڈ میں مساجد میں قتل عام کے جرم میں فرد جرم عاید کی جائے گی تاہم آئندہ 5 اپریل کو اسے عدالت میں پیش کرکے اس پر مزید الزامات میں بھی فرد جرم عاید کی جاسکتی ہے۔

درایں اثناء نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا ارڈرن نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ جس طرح کی بندوق گذشتہ جمعہ کو آسٹریلوی دہشت گرد نے نمازیوں کے وحشیانہ قتل عام کے لیے استعمال کی تھی اس طرح کے تمام ہتھیاروں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں