نیوزی لینڈ : مساجد پر حملوں میں شہید تمام افراد کی شناخت مکمل
نیوزی لینڈ میں پولیس نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ جمعے کے روز کرائسٹ چرچ شہر کی دو مساجد پر دہشت گرد حملے میں جاں بحق ہونے والے تمام پچاس افراد کی شناخت ہو گئی ہے۔ اب ان افراد کی تدفین ہو سکے گی۔
جمعرات کے روز پولیس کمشنر مائیک بش نے بتایا کہ حملوں میں قتل کر دیے جانے والے تمام پچاس افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے اور تمام خاندانوں کو مطلع کر دیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ "یہ اس کارروائی کا ٹرننگ پوائنٹ ہے"۔
سفید فام نسل پرست آسٹریلوی برینٹن ٹیرینٹ (28 سالہ) کو 50 افراد کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کرنے کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ تمام افراد کرائسٹ چرچ کی دو مساجد "النور" اور "لِنووڈ" میں نماز جمعہ ادا کر رہے تھے۔ ٹیرینٹ نے اس وحشیانہ کارروائی کو براہ راست سوشل میڈیا پر بھی نشر کیا۔
برینٹن ٹیرینٹ کی جانب سے سوشل میڈیا کی معاونت حاصل کرنا ،،، شدت پسندوں کی جانب سے ان پلیٹ فارموں کے استعمال پر روشنی ڈالتا ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسینڈا آرڈرن نے بدھ کے روز مطالبہ کیا کہ اس رجحان پر روک لگانے کے لیے ایک "یکساں محاذ" تشکیل دیا جائے۔
-
دہشت گردی ہمارے اعتماد کو متزلزل نہیں کر سکے گی: نیوزی لینڈ کی لینووڈ مسجد کے امام
کرائسٹ چرچ میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والی ایک مسجد کے امام کا کہنا ہے کہ اس حملے ...
بين الاقوامى -
نیوزی لینڈ، مساجد میں دہشت گردی کے شہداء کی تعداد 50 ہوگئی، 50 زخمی
نیوزی لینڈ کے پولیس کمشنر مائیک بُش نے کہا ہے کہ جُمعہ کے روز کرائیسٹ چرچ شہر میں ...
بين الاقوامى -
نیوزی لینڈ کے سب سے بڑے شہر کی خاتون مسلمان پولیس انسپکٹرنائلہ حسن
نیوزی لینڈ کے سب سے بڑے شہر'آک لینڈ' میں انسپکٹر پولیس کے عہدےپر ایک مسلمان خاتون ...
بين الاقوامى