.

تیل کی قیمتیں زیادہ ہیں:صدر ٹرمپ کا ا وپیک سے پیداوار بڑھانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے لیے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ( اوپیک) سے پیداوار بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ’’ اہم بات یہ ہے کہ اوپیک تیل کی پیداوار بڑھائے ۔عالمی مارکیٹ بے یقینی کی کیفیت سے دوچار ہے ،تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔آپ کا بہت شکریہ ‘‘۔

صدر کی اس ٹویٹ کے فوری بعد امریکا میں خام تیل کے مستقبل کے سودوں کے لیے تیل کی قیمت میں ایک ڈالر فی بیرل تک کمی واقع ہوئی ہے اور مستقبل کے سو دے 58.33 ڈالر فی بیرل میں ہوئے۔برینٹ نارتھ کے تیل کے سودوں میں بھی ایک ڈالر فی بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے اور 66.76 ڈالر فی بیرل میں ہوئے ہیں۔

اس سال کے آغاز میں اوپیک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے فیصلے کے بعد قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔اس کے علاوہ اوپیک کے دو رکن ممالک وینزویلا اور ایران پر امریکا کی پابندیوں کے نتیجے میں بھی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان دونوں ممالک کی تیل کی برآمدات کم ہو کر رہ گئی ہیں۔

تاہم تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اقتصادی سرگرمیوں پورے زور شور سے جاری رہتیں اور تیل کی کھپت میں اضافہ ہوتا تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اس سے بھی زیادہ ہوسکتی تھیں۔

واضح رہے کہ اوپیک ، روس اور تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک نے دسمبر میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام کے لیے جنوری سے اپنی یومیہ پیداوار میں 12 لاکھ بیرل کی مجموعی طور پر کمی سے اتفاق کیا تھا۔ انھوں نے یہ فیصلہ امریکی صدر کی مخالفت کے باوجود کیا تھا۔صدر ٹرمپ نے اوپیک اور اس کے ساتھ سمجھوتے میں شریک ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی پیداوار میں کمی نہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا۔

عالمی مارکیٹ میں 2018ء کے دوران میں تیل کی فی بیرل اوسط قیمت 70 ڈالر رہی تھی۔ اوپیک کے حکام نے یہ پیشین گوئی کی ہے کہ 2019ء میں تیل کی فی بیرل اوسط قیمت 60 سے 80 ڈالر کے درمیان رہے گی۔