.

افریقی یونین لیبیا میں مصالحت کے لیے کانفرنس کی میزبانی کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی یونین لیبیا کے متحارب سیاسی فریقوں کو ایک دوسرے قریب لانے اور متحد کرنے کے لیے جولائی میں ایک مصالحتی کانفرنس کی میزبانی کرے گی۔

افریقی یونین کمیشن کے سربراہ موسیٰ فقیہ نے اتوار کو تیونس میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے موقع پر ایک پریس کانفرنس میں اس مصالحتی کانفرنس کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’مجوزہ کانفرنس عدیس ابابا میں منعقد ہوگی۔ یہ لیبیا کے متحارب سیاسی فریقوں کے درمیان مصالحت کا ایک موقع ہوگی۔اب ان سیاسی فریقوں کے لیے وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی قسمت کے بارے میں مثبت انداز میں تبادلہ خیال کریں‘‘۔

انھوں نے یورپی یونین کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی امور کی سربراہ فیڈریکا مغرینی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس سے تیونس میں لیبیا کی صورت حال پر تبادلہ خیال کے بعد اس کانفرنس کا اعلان کیا ہے۔اقوام متحدہ آیندہ ماہ لیبیا کے وسطی شہر غدامس میں الگ سے ایک کانفرنس منعقد کررہی ہے۔اس میں خانہ جنگی کا شکار ملک میں عام انتخابات کرانے کے لیے آیندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے لیبیا غسان سلامہ نے اسی ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ غدامس میں 14 سے 16 اپریل تک ہونے والی مجوزہ کانفرنس میں120 سے 150 تک مندوبین شرکت کریں گے۔

واضح رہے کہ لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے،ملک کے سیاسی ، انتظامی اور معاشی ادارے زبوں حال ہیں اور بہت سے ادارےتباہ ہوچکے ہیں۔اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں۔ دارالحکومت طرابلس میں وزیراعظم فایزالسراج کے زیر قیادت حکومت ہے۔اس کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے جبکہ ملک کے مشرقی علاقوں میں قائم حکومت کو سابق جنرل خلیفہ حفتر اور ان کے زیر قیادت قومی فوج کی حمایت حاصل ہے لیکن اس کو بیرون ملک تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔