.

سبکدوش ہونے والے الجزائری صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کا ہنگامہ خیز سیاسی سفر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک الجزائرمیں طویل عرصے تک منصب صدارت پر فائزرہنے والے عبدالعزیز بوتفلیقہ گذشتہ روز اپنے عہدے سےمستعفی ہوگئے۔ صدر بوتفلیقہ کا شمار فرانسیسی استعمار سے الجزائر کی آزادی کی جدو جہد کے ایک متحرک رہ نما کے طورپر کیا جاتا ہے۔ فرانسیسی قبضے سے آزادی کے بعد الجزائر کی پہلی حکومت میں انہیں وزارت کا قلم دان سونپا گیا۔ کچھ عرصہ سفارت کاری کی اور آخر میں سب سے طویل عرصے تک صدر رہنے والے لیڈر کے طورپر اپنی سیاسی زندگی کا سفر مکمل کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سبکدوش ہونے والے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی سیاسی زندگی پر روشنی ڈالی ہے۔
عبدالعزیز بوتفلیقہ کو فرانسیسی قبضے کے خلاف جدو جہد کے دوران عبدالقادر المالی کا لقب دیا گیا۔سنہ 1956ء میں 19سال کی عمر میں انہوں نے انقلابی جدو جہد شروع کردی تھی۔

سنہ 1962ء کو الجزائر کی حکومت نے انہیں پہلی حکومت میں امور نوجوانان اور سیاحت کا قلم دان سونپا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 25 سال تھی۔ اس کے ایک سال بعد وہ وزارت خارجہ جیسی اہم ترین ذمہ داری پر فائز ہوئے۔ انہوں نے پہلی بار الجزائر کو بین الاقوامی فورمز پر متعارف کرایا۔ خاص طورپر سنہ 1974ء میں‌جنرل اسمبلی کے سیشن کی صدارت کے دوران الجزائر کی عالمی سفارت کاری کی دنیا میں ملک کو اہم مقام دلانے میں عبدالعزیز بوتفلیقہ کا کلیدی کردار تھا۔

طویل خشک سالی کے برسوں اور سابق صدرھواری بومدین کی وفات کے بعد عبدالعزیز بوتفلیقہ نے سنہ 1978ء میں سیاسی عمل سے دست کشی کا اعلان کیا۔ اس کے بعد ملک خانہ جنگی کا شکار ہوگیا اور سنہ 1987ء کو عبدالعزیز بوتفلیقہ ایک بار پھر سیاست میں آگئے۔ سنہ 1992ء اور 1994ء کے دوران وہ دو سال تک اعلیٰ ریاستی کونسل میں مشیر اور اقوام متحدہ میں‌الجزائر کا سفیر کی پیش کش کی گئی مگر انہوں‌نے قبول نہیں کی اور نہ ہی عبوری صدر کا عہدہ قبول کیا۔

سنہ 1998ء کو عبدالعزیز بوتفلیقہ نے بڑے سیاسی معرکے میں حصہ لیا اور سنہ 1994ء کو عبدالعزیز بوتقلیقہ ملک کے صدر منتخب ہوگئے۔ سنہ 2004ء کو وہ دوبارہ الجزائر کے صدر منتخب ہوئے تو انہیں‌نے دستور میں ترامیم کیں۔

دستوری ترامیم کو سنہ 2008ء میں پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا جہاں انہیں منظورکرلیا گیا۔ اس ترمیم میں تیسری اور چوتھی بار صدر منتخب ہونے کی راہ ہموارکی گئی۔ اسی ترمیم کے ذریعے سنہ 2009ء میں انہیں ایک بار پھر ملک کا صدر بننے کا موقع ملا۔ حال ہی میں جب ملک میں صدارتی انتخابات کا اعلان کیا گیا تو عبدالعزیز بوتفلیقہ ایک بار پھرمیدان میں اترنے کی تیاری کرنے لگے مگر اب ملک میں فضاء ان کےلیے خوش گوار نہیں۔ صدارتی انتخابات میں نامزدگی کا فیصلہ کرتے ہی ان کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع ہوگیا۔ اس احتجاج کے بعد عبدالعزیز بوتفلیقہ نے نہ صرف انہیں انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا بلکہ وہ قبل ازوقت ہی منصب صدارت سے بھی الگ ہو گئے۔