.

مشرقی لیبیا کے کمانڈر خلیفہ حفتر کا اپنے فوجیوں کو دارالحکومت طرابلس پر چڑھائی کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مشرقی علاقے میں کمانڈر جنرل خلیفہ حفتر نے اپنے ماتحت فوجیوں کو دارالحکومت طرابلس پر چڑھائی کا حکم دیا ہے۔ان کے اس طبلِ جنگ سے خانہ جنگی کا شکار ملک میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔

خلیفہ حفتر نے اپنا یہ حکم ایک ویڈیو کی شکل میں آن لائن پوسٹ کیا ہے۔ ان کی اس ویڈیو کا عنوان :’’ طرابلس کو آزاد کرانے کے لیے کارروائی ‘‘ ہے ۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’ طرابلس کے نواح میں تعینات ہمارے فوجیوں کے نام ، آج ہم اپنا مارچ مکمل کرلیں گے ۔ ہم بہت جلد یہ مارچ شروع کرنے والے ہیں‘‘۔انھوں نے دھمکی آمیز لہجے میں اپنے مخالفین کو مخاطب کرکے کہا کہ ’’ آج ہم جابرین کے قدموں سے زمین سرکا دیں گے‘‘۔

اس کے چند گھنٹے کے بعد ہی ان کی وفادار فورسز نے دارالحکومت کے جنوب میں ایک سو کلومیٹر دور واقع قصبے غریان پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبی نیشنل آرمی ( ایل این اے) نے طرابلس میں قائم بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ وزیراعظم فایز السراج کی حکومت کے تحت فورسز کو مختصر جھڑپوں کے بعد شکست سے دوچار کیا ہے۔

دریں اثنا ء اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس طرابلس ہی میں ہیں۔ وہ لیبیا کے متحارب فریقوں کے درمیان امن معاہدے کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے متحارب فریقوں پر ضبط وتحمل کی اپیل کی ہے۔

لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدرمعمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے اور اس وقت ملک میں دو متوازی حکومت قائم ہیں۔ طرابلس میں مغرب اور اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت قائم ہے اور لیبیا کے مشرقی شہروں پر خلیفہ حفتر کے زیرِ قیادت فورسز اور حکومت کا کنٹرول ہے لیکن اس کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔

وزیراعظم فایز السراج اور خلیفہ حفتر کے درمیان حالیہ مہینوں کے دوران میں مذاکرات کے متعدد دور ہوچکے ہیں لیکن ان کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا ہے اور ان دونوں کی اتحادی ملیشیائیں اپنے اپنے زیر قبضہ علاقوں کو خالی کرنے کو تیار ہیں اور نہ وہ کوئی ایک متحدہ حکومت کے قیام پر متفق ہوسکے ہیں۔

دارالحکومت  طرابلس کے نواح میں تعینات  لیبی فوجی ۔
دارالحکومت طرابلس کے نواح میں تعینات لیبی فوجی ۔