.

نیوزی لینڈ: سپر ماسِسٹ دہشت گرد پر 50 افراد کے قتل کی فرد ِجرم عاید کی جائے گی

پراسیکیوٹرزدومساجد میں نمازیوں پر فائرنگ کے ملزم کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلانے کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیوزی لینڈ کے شہر کرائس چرچ میں گذشتہ ماہ دو مساجد میں خون کی ہولی کھیلنے والے آسٹریلوی دہشت گرد کے خلاف 50 افراد کے قتل کی فردِ جُرم عاید کی جائےگی ۔اس ملزم کو جمعہ کو کرائس چرچ کی عد الت میں بلا واسطہ طور پر پیش کیا جارہا ہے۔

آسٹریلوی دہشت گرد برینٹن ٹارینٹ پر اس سے پہلے 15 مارچ کو دو مساجد پر دہشت گردی کے حملوں کے الزام میں صرف ایک قتل پر فردِ جرم عاید کی گئی تھی اور پولیس نے کہا تھا کہ اس کے خلاف عدالت میں آیندہ پیشی کے موقع پر 50 قتل اور 39 اقدام قتلِ کے الزامات میں مزید فردِ جرم عاید کی جائے گی۔

28 سالہ ملزم اس وقت نیوزی لینڈ کے دارالحکومت آک لینڈ میں ایک انتہائی سکیورٹی والی جیل میں بند ہے اور وہ ویڈیو لنک کے ذریعے کرائس چرچ کی عدالت میں نمودار ہوگا۔

اس عدالت نے اسی ہفتے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملزم کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی مختصر وقت کے لیے ہوگی اور اس مدعا علیہ کی قانونی نمایندگی اور دوسرے امور کا تعیّن کیا جائے گا۔تاہم عدالت نے واضح کیا کہ ٹارینٹ 5 اپریل کو مقدمے کی سماعت کے وقت اپیل کی درخواست نہیں کرسکے گا۔

واضح رہے کہ سفید فام سپر ماسیسٹ دہشت گرد نے 16 مارچ کو پہلی پیشی کے وقت عدالت کے مقرر کردہ وکیل کو برطرف کردیا تھا ۔اس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ شاید اپنی پیروی خود کرنا چاہتا ہے اور اس طرح وہ عدالت میں پیشی کو پروپیگنڈا کے لیے استعمال کرے گا۔ تاہم عدالت نے میڈیا کو ملزم کی فلم یا تصویر بنانے سے روک دیا ہے۔

عدالت یہ بھی فیصلہ کرے گی کہ ملزم کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے یا عام فوجداری قانون کے تحت مقدمے کی سماعت کی جائے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کئی مرتبہ دو مساجد میں نمازیوں پر فائرنگ کے واقعے کو دہشت گردی قرار دے چکی ہیں۔ نیوزی لینڈ کے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کا اب تک بہت کم استعمال کیا گیا ہے۔

ملک میں یہ ایکٹ امریکا پر نائن الیون حملوں کے بعد متعارف کرایا گیا تھا۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دہشت گرد کے خلاف اس ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جاتا ہے تو پراسیکیوشن پیچیدہ ہوسکتی ہے لیکن پراسیکیوٹرز اس کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت ہی مقدمہ چلانے کے خواہاں ہیں اور وہ سپر ماسسٹ دہشت گرد کو سبق سکھانا چاہتے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے محکمہ اصلاح نے گذشتہ ماہ واضح کیا تھا کہ ٹارینٹ کو دوسرے قیدیوں سے الگ تھلگ رکھا جائے گا ۔اس کی براہ راست یا سی سی ٹی وی کیمرے سے مسلسل نگرانی کی جائے گی۔اس نے مزید کہا تھا کہ اس دہشت گرد کو ٹیلی ویژن ، ریڈیو یا اخبار تک کوئی رسائی نہیں ہوگی اور کوئی اس سے ملاقات بھی نہیں کر سکے گا۔

کرائس چرچ کی دو مساجد میں نماز جمعہ کے وقت فائرنگ کرنے والے سپر ماسِسٹ دہشت گرد ٹارینٹ کے خلا ف اس سے پہلے صرف ایک قتل کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ ان دونوں مساجد میں فائرنگ سے نو پاکستانیوں سمیت 50 افراد شہید اور پچاس ہی زخمی ہوگئے تھے۔نیوزی لینڈ کے محکمہ صحت نے اسی ہفتے بتایا ہے کہ حملے میں زخمی ہونے والے چوبیس افراد ابھی تک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ان میں ایک چار سالہ بچّی سمیت چار افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔