.

سوڈان : صدر بشیر کے خلاف احتجاج جاری ، سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے پانچ مظاہرین ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں صدر عمر حسن البشیر کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں ، مظاہرین ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں اور سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کر کے پانچ مظاہرین کو ہلاک کردیا ہے۔

سوڈان میں مظاہرین کو الجزائری صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں گذشتہ ہفتے مستعفی ہونے کے بعد سے تقویت ملی ہے اور وہ زیادہ پُرجوش انداز میں صدر عمر حسن البشیر کے خلاف احتجاجی ریلیوں میں شرکت کررہے ہیں۔سوڈانی صدر کے خلاف گذشتہ چار ماہ سے احتجاجی تحریک جاری ہے اور اس دوران میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ساٹھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

سوڈانی حکومت نے چند ہفتے قبل 32 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی لیکن اس کے بعد سے اس نے ہلاکتوں کے نئے اعداد وشمار جاری نہیں کیے ہیں۔

سوڈانی حکومت کے خلاف ریلیوں میں مختلف گروپوں اور تنظیموں پر مشتمل سوڈانی پروفیشنلز ایسوسی ایشن ( ایس پی اے) پیش پیش ہے اور وہی مظاہروں کو منظم کررہی ہے۔اس کی خاتون ترجمان سارہ عبدالجلیل نے ایسوسی ایٹڈ پریس ( اے پی) کو بتایا ہے کہ چار مظاہرین خرطوم اور ایک شخص دارالحکومت کے جڑواں شہر اُم درمان میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مارا گیا ہے۔

ایس پی اے نے کہا ہے کہ دارالحکومت میں ہفتے اور اتوار کو فوجی ہیڈکوارٹرز اور ایک صدارتی محل کے باہر ہزاروں افراد نے احتجاجی ریلی میں شرکت کی ہے۔آن لائن پوسٹ کی گئی فوٹیج کے مطابق مظاہرین صدر عمر البشیر کی حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کررہے تھےاور کہہ رہے تھے:’’ لوگ نظام کا دھڑن تختہ چاہتے ہیں‘‘ ۔ واضح رہے کہ عرب بہاریہ تحریکوں کے دوران میں یہ ایک مقبول نعرہ رہا تھا۔

ایک اور فوٹیج میں مظاہرین نے وزارت دفاع کے باہر دھرنا دینے کے لیے خیمے گاڑ رکھے ہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے تو سکیورٹی فورسز کی جانب پتھراؤ کیا تھا لیکن سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا ہے ، اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں اور براہ راست فائرنگ کردی ہے۔

ایس پی اے میں شامل سوڈان ڈا کٹرز کمیٹی نے کہا ہے کہ ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران میں متعدد افراد براہ راست گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں۔سوڈان کی سرکاری خبررساں ایجنسی سونا نے ہفتے کے روز پولیس کے ترجمان جنرل ہاشم عبدالرحیم کے حوالے سے بتایا تھا کہ اُم درمان میں گڑ بڑ کے دوران ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔ انھوں نے مظاہروں کو ’’غیر قانونی ا جتماع ‘‘قرار دیا تھا۔

صدر بشیر کے زیر قیادت سوڈان کی قومی دفاعی اور سلامتی کونسل نے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ مظاہرین کے مطالبات پر غور کیا جانا چاہیے ۔اس نے مکالمے کے ذریعے بحران کے خاتمے کی ضرورت پر زورد یا ہے۔

دریں اثناء اتوار کو سوڈان بھر میں بجلی بند رہی ہے اور وزارت بجلی کا کہنا ہے کہ اس کے ماہرین تمام علاقوں میں برقی رو کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔