.

الجزائر :ایوان بالا کے اسپیکر عبدالقادر بن صالح عبوری صدر نامزد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کی پارلیمان کے ایوانِ بالا کے ارکان نے اسپیکر عبدالقادر بن صالح کو ملک کا نیا عبور ی صدر نامزد کردیا ہے۔

الجزائر کے سابق صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ اپنے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے بعد گذشتہ ہفتے مستعفی ہوگئے تھے۔ مظاہرین اب ان کے قریبی مصاحبین اور ان کی نسل سے تعلق رکھنے والے تمام سیاست دانوں سے حکومتی عہدے چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں مگر آئینی تقاضے آڑے آرہے ہیں اور اب آئینی قواعد کی پیروی کرتے ہوئے ایوانِ بالا کے اسپیکر کو 90 روز کے لیے عبوری صدر نامزد کردیا گیا ہے۔

انھوں نے اپنی نامزدگی کے بعد پارلیمان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں عوام کے مفادات کی تکمیل کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں ۔ آئین نے مجھ پر یہ بھاری ذمے داری عاید کی ہے‘‘۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے بن صالح کی نامزدگی کی حمایت کرنے سے انکار کردیا تھا اور انھوں نے پارلیمان کے اجلاس کا ب بھی بائیکاٹ کیا ہے ۔اس دوران میں سیکڑوں طلبہ نے دارالحکومت الجزائر میں عبوری صدر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

وہ دارالحکومت الجزائر میں مرکزی ڈاک خانے کے باہر جمع ہوکر احتجاج کررہے تھے ۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتوں کے دوران میں الجزائری عوام اسی جگہ اکٹھے ہو کر صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں۔

پارلیمان کے اجلاس سے قبل حکومت نواز اخبار المجاہد میں منگل کے روز ایک اداریے میں اس رائے کا اظہار کیا گیا تھا کہ بن صالح کو صدر کے منصب پر فائز نہیں ہونا چاہیے۔اخبار نے لکھا کہ شہری تحریک، پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں مختلف سیاسی گروپ اور حزبِ اختلاف انھیں قبول کرنے کو تیار نہیں ۔

الجزائر میں سابق علیل صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے خلاف فروری کے تیسرے ہفتے میں ان کے پانچویں مدتِ صدارت کے لیےامیدوار بننے کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک شروع ہوئی تھی اور اس کے ردعمل میں انھوں نے 18 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات ملتوی کرنے اور بہ طور امیدوار دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا مگر مظاہرین ان کے اس اعلان سے مطمئن نہیں ہوئے تھے۔انھوں نے اپنا احتجا ج جاری رکھا تھا جس کے بعد گذشتہ ہفتے انھیں بیس سال کے بعد منصبِ صدارت سے سبکدوش ہونا پڑا تھا۔