.

سوڈان کی عبوری کونسل کا شہری آزادیوں پرعاید قدغنیں ختم کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل نے سابق حکومت کے دور میں شہری آزادیوں‌پرعاید کی گئی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سوڈان کی عبوری کونسل کا ہفتےکے روز اہم اجلاس خرطوم میں ہوا۔ اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے مندوبین نے بھی شرکت کی۔ کونسل کے رکن عمر الدقیران نے ایک بیان میں بتایا عبوری کونسل کے چیئرمین نے شہری آزادیوں‌پرعاید کی گئی پابندیاں فوری ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔انہوں‌نے کہا کہ ہم نے عسکری کونسل سے سیکیورڈی سسٹم کی ازسرنو تشکیل، مکمل شہری اصلاحات کےنفاذ، کونسل میں سیاسی جماعتوں کو شامل کرنے کے مطالبات پیش کیے ہیں۔آج اس حوالے سے کونسل کے سامنے مطالبات کی مکمل فہرست پیش کی جائے گی۔

الدقیر کاکہنا تھا کہ ہمیں ملٹریکونسل کے چیئرمین کی طرف سے کیے گئے وعدوں‌پرعمل درآمد کا انتظار ہے۔ انہوں‌نے تمام قیدیوں کو رہاکرنے کا وعدہ کیا ہے۔ امید ہے کونسل جلد از جلد سیاسی قیدیوں‌کو رہاکرے گی۔ انہوں‌نے کہاکہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ فوجی عبوری کونسل شہریوں کےقتل عام میں ملوث عناصرکو قانون کے کٹہرے میں لانے کے ساتھ کرپشن کا خاتمہ کرے گی۔

الدقیر کاکہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے انہیں بتایا کہ خرطوم میں دھرنا دینے والے شہریوں‌نے جنرل عوض بن عوف کو عبوری کونسل کے چیئرمین سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

دریں اثناء معزول صدر کے خلاف احتجاجی تحریک کو منظم کرنے والے منتظمین نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں سول حکومت کے قیام تک اپنا مارچ جاری رکھیں۔عینی شاہدین کے مطابق آج دارالحکومت خرطوم میں وزارت دفاع کے باہر ہزاروں افراد نے جمع ہو کر احتجاج کیا ہے۔

جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب بھی ہزاروں افراد نے خرطوم میں عوض بن عوف کے مستعفی ہونے کی خوشی میں احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوڈان میں حکومت میں تبدیلی کے لیے فوج پر مظاہرین کا سخت دباؤ تھا۔ مسلح افواج میں پھوٹ کا خوف بھی پایا جارہا تھا اور اس خدشے کا اظہار کیا جارہا تھاکہ بعض فوجی کمانڈر بغاوت کرسکتے ہیں۔