.

قطر 2011 سے لیبیا میں دہشت گرد ملیشیاؤں کی سپورٹ کر رہا ہے : المسماری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں قومی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد المسماری نے قطر اور اس کے وزیر خارجہ پر لیبیا کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر 2011 سے اب تک مالی رقوم اور ہتھیاروں کے ذریعے لیبیا میں دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہا ہے۔

قطر نے براہ راست اور واضح صورت میں لیبیا میں قومی فوج کے خلاف اپنی جانب داری کا اظہار کرتے ہوئے فوج کو ملیشیا قرار دیا۔ قطر نے فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر پر نکتہ چینی کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ لیبیا میں مکالمے کو یقینی بنانے کے سلسلے میں کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ یہ ساری بات قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن کے "ٹویٹر" اکاؤنٹ کے ذریعے سامنے آئی۔

ایسا نظر آ رہا ہے کہ لیبیا کے دارالحکومت کے جنوب میں قومی فوج کی پیش قدمی نے قطر کو مجبور کر دیا کہ وہ مسلح جماعتوں کے دفاع میں اپنے موقف کا اعلانیہ اظہار کرے۔ ان میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جن کو دہشت گرد تنظیموں کا درجہ دیا جا چکا ہے۔ اسی کے ساتھ قطر اب اطالیہ کی جانب متوجہ ہو چکا ہے جس نے اپنے طور پر لیبیا کی قومی فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا اور وہ فرانس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے طرابلس میں داخل ہونے کے لیے قومی فوج کو گرین سگنل دیا۔

یاد رہے کہ قطری وزیر خارجہ نے اطالیہ کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے لیبیا کی قومی فوج پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا اور فوج پر زور دیا کہ وہ وہ اُن علاقوں سے نکل جائے جن کو اُس نے حالیہ عرصے میں کنٹرول میں لیا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ قطر، ترکی اور اطالیہ فائز السراج کے زیر قیادت وفاق کی حکومت اور مسلح جماعتوں کی سپورٹ کے حوالے سے ایک ہی سمت میں گامزن ہیں۔

دوسری جانب لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسان سلامہ نے لیبیا کے بحران کے حوالے سے سلامتی کونسل میں سامنے آنے والے انقسام پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سلامہ کے مطابق اقوام متحدہ کا مشن فائر بندی کے لیے فریقین کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔