.

امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے میں وینزویلا اور کیوبا کی مدد کریں گے : روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ ماسکو امریکا کی جانب سے وینزویلا اور کیوبا پر عائد پابندیوں کو غیر قانونی شمار کرتا ہے... اس واسطے وہ کراکس اور ہیوانا میں اپنے حلیفوں کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ بات جمعرات کے روز روسی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے بدھ کے روز میامی میں اپنے خطاب کے دوران کیوبا اور وینزویلا کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ وینزویلا کے صدر نکولس میڈورو اور ان کو سپورٹ کرنے والے ممالک پر دباؤ بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ وہ وینزویلا کے ساتھ امریکا کے ہر قسم کے لین دین کو روک دے گا اور اپنے پاس وینزویلا کے مرکزی بینک اور وینزویلا کے صدر کے کسی بھی اثاثے کو منجمد کر دے گا۔ علاوہ ازیں امریکیوں کے کیوبا سفر پر بھی قیود لگائی جائیں گی اور اس جزیرے کو منتقل کی جانے والی رقم پر حد لگائی جائے گی۔

دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسٹیفن منوچن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ کی جانب سے وینزویلا میں مرکزی بینک کے خلاف اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ مرکزی بینک کو میڈورو کی غیر قانونی حکومت کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہونے سے روکا جائے جو مسلسل وینزویلا کی دولت لوٹنے اور سرکاری اداروں کے استحصال میں مصروف ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ وزارت خزانہ نے اس امر کو یقینی بنایا ہے کہ مرکزی بینک کو بلیک لسٹ کرنے کے باوجود وینزویلا کے شہری اپنا کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔