.

سوڈان: عبوری کونسل نے مذاکرات روک دیے، 9 ماہ کے اندر انتخابات کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں عبوری عسکری کونسل کے سربراہ جنرل رکن عبدالفتاح البرہان نے اعلان کیا ہے کہ کونسل نے فریڈم اینڈ چینج فورسز کے ساتھ مذاکرات روک دیے ہیں اور ان تمام امور کو بھی منسوخ کر دیا ہے جن پر اب تک اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ البرہان کے مطابق آئندہ نو ماہ کے اندر عام انتخابات کا اجرا ہو گا۔

منگل کو علی الصبح سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں عسکری کونسل کے سربراہ نے مزید کہا کہ "انتخابات کا انعقاد علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر نگرانی کے ذریعے ہو گا"۔

البرہان نے پیر کے روز خرطوم میں دھرنے کے مقام پر پیش آنے والے واقعات میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور استغاثہ سے ان واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

عبوری کونسل کے سربراہ کے مطابق سوڈان پر حکمرانی کا راستہ بیلٹ بکس ہے۔

البرہان نے واضح کیا کہ مذاکرات کو طول دینے اور بے مقصد کھینچنے کی ذمے داری فریڈم اینڈ چینج فورسز پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "عبوری مرحلے کی ذمے داریاں انجام دینے کے واسطے نگراں حکومت تشکیل دی جائے گی"۔

ادھر عبوری عسکری کونسل کے جواب میں فریڈم اینڈ چینج فورسز نے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔

اسی دوران پیر اور منگل کی درمیانی شب دارالحکومت خرطوم کی سڑکوں پر بھرپور مظاہرے کیے گئے۔

عسکری کونسل اور فریڈم اینڈ چینج فورسز کے یہ مواقف پیر کے روز خرطوم میں فوج کی جنرل کمان کی عمارت کے سامنے جاری دھرنے کے اطراف فائرنگ کا واقعہ پیش آنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ سوڈانی ڈاکٹروں کی کمیٹی نے واقعے میں کم از کم 30 افراد کے ہلاک ہو جانے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر عسکری کونسل نے باور کرایا ہے کہ اس نے طاقت کے ساتھ دھرنا ختم کرانے کی کوشش نہیں کی بلکہ باہر سے آ کر دھرنے میں گھسنے کی کوشش کرنے والے بعض عناصر کا تعاقب کیا تھا۔