.

امریکا، ایرانی وزیر خارجہ پر فی الوقت پابندیوں کے موڈ میں نہیں: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو باخبر امریکی ذرائع نے تصدیق کی ہے امریکا نے ابھی ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پر پابندیاں عاید کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ یہ پیش رفت اس امر کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ واشنگٹن سفارتکاری کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منیوچن نے 24 جون کو دیے ایک بیان میں جواد ظریف کو ’بلیک لسٹ‘ کرنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا۔ یہ اعلان امریکا کی عمومی پالیسی سے ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ ایسے اقدامات کے قبل از وقت افشا سے پابندیوں کا ہدف شخصیت اپنے منقولہ اثاثہ جات امریکا سے باہر منتقل کر سکتا ہے۔

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار پر پابندی سے امریکا، تہران کے جوہری پروگرام، علاقائی سرگرمیوں اور میزائل تجربات سے متعلق اپنے اختلافات حل کرنے کی سفارتی راہیں مسدود کر لے گا۔

ذرائع نے اس فیصلے کی وجوہات نہیں بتائیں۔ تاہم امریکا کے نرخو حکام کی رائے کو مقدم جانا گیا۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک ذریعے نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جواد ظریف کو بلیک لسٹ کرنے سے متعلق تجویز کی فی الوقت مخالفت کی ہے۔

امریکا جواد ظریف پر پابندیاں لگانے کے کتنا قریب تھا۔ اس امر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے جواد ظریف پر پابندیوں سے متعلق پریس ریلیز کا مسودہ جاری کر دیا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ اگلے ہفتے پائیدار ترقی کے اہداف کے موضوع پر ایک کانفرنس میں شرکت کرنے والے ہیں جس میں تنازعات، بھوک، مساوات مرد وزن اور 2030 میں ماحولیاتی تبدیلی جیسے معاملات پر تبادلہ خیال کیا جانا مقصود تھا۔

اس کانفرنس میں شرکت کے لئے امریکا کو جواد ظریف کے نام ویزہ جاری کرنا پڑے گا، جو ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ امریکا فی الوقت ایرانی وزیر خارجہ پر پابندیاں عاید کرنے سے گریزاں ہے۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ خود ایک بیان میں واضح کر چکے ہیں کہ ان کے امریکا میں کوئی اثاثہ جات نہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے جواد ظریف کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ کی امریکا میں کوئی جائیداد اور بنک اکاونٹ نہیں۔ اس لئے امریکی پابندیوں کا مجھے ذاتی طور پر کوئی نقصان نہیں ہو گا۔