یورپی یونین کے فیصلوں کو زیادہ سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں: ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو کا کہنا ہے کہ انقرہ کے حوالے سے رابطوں اور فنڈنگ میں کمی سے متعلق یورپی یونین کے فیصلوں کو انتہائی سنجیدگی سے لینے کی کوئی ضرورت نظر نہیں آتی۔

یہ فیصلے قبرص کے سمندر میں ترکی کی جانب سے تیل اور گیس کی تلاش کے لئے کھدائی کی وجہ سے سامنے آئے ہیں۔

چاوش اوغلو کا یہ موقف شمالی مقدونیہ کے درالحکومت اسکوپیہ میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں سامنے آیا۔ اس پریس کانفرنس کو سی این این (تُرک) نے منگل کے روز نشر کیا۔

اس سے قبل منگل کو ہی ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک اعلان میں کہا تھا کہ قبرص کے مقابل کھدائی کے سبب یورپی یونین کی جانب سے انقرہ کے ساتھ رابطوں اور اس کی فنڈنگ پر عائد قیود سے ... خطے میں توانائی کے شعبے میں ترکی کی سرگرمیاں جاری رکھنے کا عزم متاثر نہیں ہو گا۔

ترکی وزارت خارجہ کے مطابق پیر کے روز جاری ہونے والے یورپی یونین کے فیصلوں میں ترک قبرصیوں کا ذکر نہ ہونا ،،، قبرص کے معاملے میں یورپی یونین کی جانب داری کا مظہر ہے۔

یورپی یونین کے وزراء نے قبرص کی سمندری حدود میں ترکی کی جانب سے گیس کی تلاش کے لیے کھدائی پر پیر کے روز انقرہ حکومت کے خلاف ابتدائی پابندیاں لگانے کی منظوری دے دی۔ یورپی یونین کابینہ کے مطابق "ترکی نے غیر قانونی کھدائی جاری رکھی ہے جس کی وجہ سے فضائی نقل وحرکت کے معاہدے پر بات چیت روک دی گئی ہے جب کہ یورپین سرمایہ کاری بینک سے بھی ملک کو دیے جانے والے قرضے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ یورپی یونین نے ترکی کے اقدامات کے نتیجےمیں 2020ء تک دیے جانے والے 14.6 کروڑ یورو مالیت کے فنڈز بھی روک دیے ہیں۔ نیز کابینہ نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کی ایگزیگیٹو برانچ ابھی مزید پابندیوں پر کام کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں