تیونس : الغنوشی کی "آمریت" نے النہضہ موومنٹ کے اندر اختلاف کی آگ بھڑکا دی
تیونس میں حکمراں جماعت النہضہ موومنٹ کی قیادت کے درمیان شدید تنازع دیکھا جا رہا ہے۔ اس تنازع کی وجہ پارلیمانی انتخابات کے لیے امیدواروں کے ناموں کے حوالے سے اختلافات اور چُناؤ کے عمل میں فیصلے پر موومنٹ کے سربراہ راشد الغنوشی کا غلبہ اور اختیار ہے۔
"النہضہ موومنٹ کے حوالے سے اللہ سے ڈرو"... یہ وہ پیغام ہے جو جماعت کی قیادت نے پارٹی سربراہ راشد الغنوشی کو بھیجا ہے۔ پارٹی رہ نماؤں نے غیر جمہوری طریقے سے امیدواروں کے چناؤ کے لیے مداخلت اور پارلیمانی انتخابات کے لیے پارٹی کے سینئر ووٹرز کی جانب سے منتخب کی گئی فہرستوں کے عدم احترام پر الغنوشی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
النہضہ موومنٹ نے جون میں صوبوں کی سطح پر پارٹی کے اندر انتخابات بھی کرائے تھے تا کہ سینئر ووٹرز آئندہ قانون ساز انتخابات کے لیے امیدواروں کی فہرست کے ارکان کا چُناؤ کر لیں۔
پارلیمانی انتخابات کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست "انڈیپینڈنٹ ہائی اتھارٹی فار الیکشنز" کے پاس جمع کروانے سے چند روز قبل النہضہ موومنٹ کے ایگزیکیٹو بیورو نے پارٹی کے داخلی انتخابات کے ذریعے تیار کی جانے والی فہرست میں تبدیلیاں کر ڈالیں۔ اس دوران فہرست سے چند بھاری ناموں کو ایسے طریقے سے خارج کیا گیا جس نے پارٹی قیادت کو حیران کر دیا۔
سیاسی نظم و ضبط کے کئی برس کے بعد سامنے آنے والے اس اقدام نے النہضہ موومنٹ کے اندر انقسام کے حجم اور جمہوری قواعد و ضوابط کے عدم احترام کو بے نقاب کر دیا ہے۔ پارٹی قیادت چراغ پا ہو کر راشد الغنوشی کے سامنے ڈٹ گئی ہے۔ قیادت نے اپنے پیغام میں الغنوشی کی آمریت، پالیسیوں اور انفرادی فیصلوں کی روش پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔
النہضہ موومنٹ کے رہ نما عبد اللطيف المكی نے الغنوشی کو بھیجے گئے ایک خط میں پارٹی کے ایگزیکٹو بیورو اور اس کے رہ نماؤں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے پارٹی کا اندرونی ماحول تباہ کر ڈالا ہے۔ المکی نے الغنوشی کو مخاطب کرتے ہوئے سخت لہجے میں کہا کہ "میں پارٹی کے سربراہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہماری پارٹی، نوجوانوں، خواتین اور ہمارے بھائیوں کے حوالے سے اللہ سے ڈریں"۔
تقریبا دو ہفتے قبل النہضہ موومنٹ کے رہ نما لطفی زیتون نے پارٹی کے سربراہ راشد الغنوشی کے سیاسی مشیر کے منصب سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس اقدام نے بھی النہضہ موومنٹ کے اندر معرکہ آرائی اور اختلافات کے حجم کو عیاں کر دیا۔