تیونس کے صدر الباجی قائد السبسی کا جنازہ، عرب سربراہان کا خراج عقیدت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

تیونس کے متوفی صدر الباجی قائد السبسی کی آخری رسومات کا آغاز آج ہفتے کے روز دارالحکومت میں قصرِ قرطاج سے ہوا۔ السبسی کی نمازِ جنازہ مسجد انس بن مالک میں ادا کرنے کے بعد انہیں الجلاز قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

دارالحکومت تیونس سِٹی کی سڑکوں پر جنازے کے روٹ میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ تیونس میں العربیہ کے نمائندے ولید عبداللہ کے مطابق اس موقع پر دارالحکومت کی سڑکیں عوام سے بھری ہوئی تھیں۔

السبسی کے جنازے میں کئی عالمی سربراہان نے شرکت کی جن میں فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں اور فلسطینی صدر محمود عباس شامل ہیں۔

تیونس کے عبوری صدر محمد الناصر نے اپنے تعزیتی خطاب میں کہا کہ "الباجی قائد السبسی نے ریاست میں بڑی ذمے داریاں سنبھالیں اور اپنے پیچھے انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیرئر کے دوران وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ کے علاوہ پارلیمنٹ کے اسپیکر کا منصب بھی سنبھالا"۔

الناصر کے مطابق السبسی نے انقلاب کے بعد حکمرانی سنبھال کر پہلے پہلے جمہوری صدارتی انتخابات میں نمایاں کردار ادا کیا۔ عبوری صدر نے جمہوری طریقے سے اقتدار کی منتقلی اور ملک میں استحکام لانے میں کامیابی پر السبسی کو سراہا اور انہیں "قومی وفاق کا انجینئر" قرار دیا۔

بعد ازاں حاضرین نے مرحوم صدر کی رحلت کے سوگ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

اس موقع پر الجزائر کے عبوری صدر عبدالقادر بن صالح نے اپنے خطاب میں کہا کہ قائد السبسی کی وفات تیونس اور عرب دنیا کے لیے بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے مستقبل میں تیونس کے عوام کے لیے مزید ترقی اور بہبود کی تنماؤں کا اظہار کیا۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے تعزیتی خطاب میں کہا کہ عرب اور اسلامی دنیا السبسی سے محروم ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ " مجھے یقین ہے کہ تیونس کے عوام بورقیبہ اور السبسی کے فکری ورثے کی حفاظت کریں گے"ـ

تیونس کے صدر الباجی قائد السبسی اپنے مرض کے ساتھ طویل جنگ کے بعد جمعرات کے روز 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ السبسی کا جسد خاکی جمعے کے روز ملٹری ہسپتال سے اُن کی رہائش گاہ منتقل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں متوفی صدر کا جسد خاکی صدارتی محل پہنچایا گیا تا کہ ہفتے کے روز سرکاری طور پر جنازے کی تیاریاں مکمل کی جا سکیں۔

تیونس کے عوام السبسی کی وفات پر رنج اور ستائش کے ملے جلے جذبات کا اظہار کر ہے ہیں۔ عوام کے نزدیک السبسی نے تیونس کی خاطر اپنی زندگی گزاری۔

السبسی کی وفات کے بعد آئینی تقاضوں کے مطابق محمد الناصر نے سرکاری طور پر عبوری صدر کا عہدہ سنبھالنے کے لیے حلف اٹھایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں