.

ناروے کی پولیس نے اوسلو میں مسجد پرحملہ 'دہشت گردی' قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ناروے کی پولیس نے اتوار کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ہفتے کے روز اوسلو کے قریب ایک مسجد پرہونے والا حملہ 'دہشت گردی' کی کارروائی تھی۔ اس حملے میں ایک نمازی معمولی زخمی ہوا جب کہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ناروے کی پولیس کے ترجمان رون سکولڈ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اوسلو کے نزدیک مسجد النور پرہفتے کے روز ہونے والے حملے کے حوالے سے ہم نے جو معلومات اکھٹی کی ہیں ان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یہ ایک دہشت گردانہ کارروائی تھی جس کا ارتکاب ایک انتہا پسند شخص کی طرف سے کیا گیا تھا۔ پولیس عہدیدار نے کہا کہ حملہ آور کامقصد غیرملکیوں کے خلاف خوف پیدا کرنا تھا اور دشمنانہ موقف اختیار کرنا تھا۔

خیال رہے کہ اوسلو میں ہفتے کے روز مسجد النور میں موجود نمازیوں پر ایک شخص نے فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ایک نمازی زخمی ہوگیا تھا۔ پولیس نے نمازیوں کی مدد سے حملہ آور کر حراست میں لےلیا اور اس کے فلیٹ پرچھاپہ مار کارروائی کےدوران ایک لڑکی کی لاش بھی ملی ہے۔