.

ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام پر تعطل دور کرنے کے لیے صدر روحانی سے ملاقات کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے پر تنازع کے خاتمے کے لیے صدر حسن روحانی سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کردی ہے اور کہا ہے کہ ایرانی معیشت کی بحالی کے لیے رقوم کی ترسیل کی غرض سے بھی ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

وہ فرانس کے ساحلی سیاحتی مقام بیارتز میں منعقدہ گروپ 7 کے سربراہ اجلاس کے موقع پر سوموار کو صدر عمانوایل ماکروں کے ساتھ نیوز کانفرنس میں گفتگو کررہے تھے ۔ لیکن سربراہ اجلاس میں تقریر میں انھوں نے ایرانی معیشت کی بحالی کے لیے اس پر عاید کردہ اقتصادی پابندیاں ہٹانے کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔

انھوں نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ آیندہ ہفتوں کے دوران میں ان کی صدر حسن روحانی سے ملاقات ہونی چاہیے۔انھوں نے ایران کو شاندار مواقع کا حامل ملک قرار دیا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا’’ میں اچھے احساسات رکھتا ہوں ۔میرے خیال میں وہ ( حسن روحانی) ملاقات کرنا چاہیں گے اور وہ اپنی صورت حال کوسیدھا کرنا چاہتے ہیں۔وہ بری طرح متاثر ہوئے ہیں‘‘۔

اس نیوز کانفرنس میں جی 7 سربراہ اجلاس کے میزبان فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے بتایا کہ صدر حسن روحانی نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں صدور کے درمیان آیندہ ہفتوں میں ملاقات ہوسکتی ہے۔صدر ٹرمپ اور حسن روحانی ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اکٹھے ہوں گے اور وہیں دونوں میں ملاقات ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں صدر حسن روحانی اعلیٰ فیصلہ ساز نہیں ہیں ۔یہ کردار امریکا مخالف رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو حاصل ہے۔اس لیے اگر حسن روحانی اور ان کے امریکی ہم منصب کے درمیان کوئی معاملہ طے پا بھی جا تا ہے تو اس کی علی خامنہ ای سے منظوری ضروری ہوگی۔

یورپی لیڈر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مئی 2018ء میں جوہری سمجھوتے سے انخلا کے بعد سے ایران اور امریکا کے درمیان گہری ہوتی اختلافات کی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔امریکا نے نومبر 2018ء میں ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں جس سے اس کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے۔

فرانسیسی صدر عمانو ایل ماکروں دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور بحران کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے حالیہ بات چیت کی بنیاد پر اس امید کا اظہار کیا کہ ’’آیندہ ہفتوں میں ہم صدر روحانی اور صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں کامیاب ہوجائیں گے اور اگر ان میں یہ ملاقات ہوجاتی ہے تو پھر ایک سمجھوتا بھی طے پاجائے گا۔‘‘

صدر ماکروں کی یہ کوششیں بار آور ثابت ہونا شروع ہوگئی ہیں اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اتوار کو گروپ 7 کے سربراہ اجلاس کے مقام فرانس کے ساحلی قصبے بیارتز میں اچانک پہنچ گئے تھے حالانکہ ان پر امریکا کی پابندیاں عاید ہیں۔