ایران نے اپنے خلائی مرکز میں راکٹ کے دھماکے کی تصدیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران نے پہلی مرتبہ اپنے امام خمینی خلائی مرکز میں راکٹ کے دھماکے کی تصدیق کی ہے۔گذشتہ جمعرات کو خلائی تصاویر سے اس دھماکے کا پتا چلا تھا۔ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیع کا کہنا ہے کہ ایک تجربے کے دوران میں فنی خرابی کی وجہ سے یہ دھماکا ہوا تھا۔

انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس واقعے کے بارے میں ٹویٹ پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔صدر ٹرمپ نے امریکا کے جاسوس سیارے کی ایک تصویر کے حوالے سے اس دھماکے کی اطلاع دی تھی۔ایران کے خلائی مرکز میں راکٹ کا یہ تیسرا دھماکا تھا اور اس کے بعد اس کے خلائی پروگرام کے تخریب کاری کا ہدف بننے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

تاہم ایرانی حکومت کے ترجمان نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ ایک فنی معاملہ تھا اور فنی غلطی کے نتیجے میں دھماکا ہوا تھا۔ہمارے ماہرین نے اتفاق رائے سے یہی کہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’دھماکا لانچ پیڈ پر ہوا تھا اور اس وقت تک کوئی سیٹلائٹ اس لانچ پیڈ تک منتقل نہیں کیا گیا تھا۔ دھماکا تجربے کی جگہ پر ہوا تھا اور خلائی سیارہ چھوڑنے کی جگہ پر نہیں ہوا تھا۔‘‘

اس واقعے کی دستیاب تصاویر میں جمعرات کو لانچ پیڈ سے سیاہ دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔دھماکے سے تباہ شدہ راکٹ اور اس کے مسخ شدہ اسٹینڈ کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔گذشتہ دنوں کی تصاویر میں ایرانی حکام کو اس لانچ پیڈ کو نیلا رنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ جمعہ کو ٹویٹر پر جو تصویرجاری کی تھی،وہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ایران کی خفیہ نگرانی کی سرگرمیوں کے دوران میں بنائی گئی تھی۔اس تصویر میں لانچ پیڈ کے گرد تباہ شدہ گاڑیوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔اس پر فارسی زبان میں لکھی یہ عبارت بھی ملاحظہ کی جاسکتی ہے:’’قومی پیداوار ، قومی قوت‘‘۔

صدر ٹرمپ نے ٹویٹ میں لکھا تھا:’’ریاست ہائے متحدہ امریکا ایران میں سمنعان لانچ سائٹ اوّل میں سفیر سیٹلائٹ کی ابتدائی تیاریوں کے دوران میں تباہ کن واقعے میں ملوّث نہیں تھا۔میں سائٹ ون پر جو کچھ ہوا ہے،اس پر ایران کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘

لیکن ایرانی ترجمان نے صدرٹرمپ کو اس ٹویٹ پر آڑے ہاتھوں لیا ہے اور کہا ہے:’’ہم یہ نہیں سمجھ سکے کہ امریکی صدر اتنے جوش وخروش کے ساتھ کیوں خلائی تصاویر پوسٹ اور ٹویٹ کررہے ہیں۔شاید ایران سے متعلق موضوعات میں کمی ہوگئی ہے اور وہ اس طرح کے ایشوز کو اٹھا رہے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ اس دھماکے سے قبل ایران کی جنوری اور فروری میں پیام اور دوستی خلائی سیارے چھوڑنے کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوگئی تھیں۔امام خمینی خلائی مرکز پر جنوری میں آتش زدگی کا ایک واقعہ رونما ہوا تھا اور اس میں تین محققین ہلاک ہوگئے تھے۔ایران نے گذشتہ ایک عشرے کے دوران میں مختصر دورانیے کے حامل متعدد خلائی سیارے مدار میں بھیجے ہیں اور اس نے 2013ء میں خلا میں ایک بندر بھیجا تھا۔

اب ایران ناہید اوّل کے نام سے ایک ابلاغی سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کی تیاری کررہا ہے۔امریکا نے ایران پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خلا میں سیارے بھیج رہا ہے۔اس نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل بیلسٹک میزائلوں کے تجربات سے متعلق کسی بھی سرگرمی سے باز رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں