کروڑوں ڈالرکی 'لوٹ مار' میں ملوث سوڈان کی سابق خاتون اول وداد کی روداد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

سوڈان میں ہر ہفتے کے روز برطرف صدر عمرالبشیر کے بدعنوانی اور لوٹ مار کے کیسز کی سماعت کی جاتی ہے۔ عالمی عدالت انصاف کو مطلوب 30 سال تک سوڈان کے سیاہ وسفید کےملک رہنے والے سابق صدر کو اب ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑ رہا ہے۔

عمرالبشیر کے کیس کی ہرسماعت اور ہرپیشی کے موقع پرنئے سوالات اٹھتے اور البشیر سے ان کے جواب مانگے جاتے ہیں۔ کیسز کی سماعت کے دوران ایک نام بار بار لیا جاتا ہے۔ یہ وداد بابکر ہیں جو معزول صدرعمر البشیر کی دوسری اہلیہ ہیں۔ موصوفہ نے بھی اپنے شوہر کے اقتدار کے عرصے میں بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ خوب دھوئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پربھی کروڑوں ڈالر کی رقم غبن کرنے کا الزام عاید کیاجاتا ہے۔

خرطوم میں موجود وداد بابکر کے ٹھکانے کا فی الحال کوئی علم نہیں۔ بعض ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ گھرپرنطر بند ہیں۔ انہیں رواں سال اپریل میں عمرالبشیر کا تختہ الٹے جانے کے بعد وداد مکمل طورپر روپوش ہیں۔

ان کی آخری عوامی نمائش ان کے شوہر کی حکومت کے خاتمہ سے ایک ماہ قبل تھی ، جب انہوں نے مارچ 2019 کے دوسرے ہفتے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عوام سے خطاب کیا تھا۔

سوڈانی حکام نے ہفتے کی شام تک وداد کے ٹھکانے کا اعلان نہیں کیا تھا۔ عوام الناس وداد بابکر پرسخت مشتعل ہیں۔ لوگوں کی طرف سےمعزول صدر کی بیوی پر اہلیہ کی حیثیت سے اثر و رسوخ استعمال کرنے، قومی دولت کی لوٹ مار اور عوام کے حقوق کا استحصال کرنے اور بھاری رقوم جمع کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ وداد کے حوالے سے کئی طرح کی افواہیں گردش میں ہیں حالانکہ متعدد ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وہ نظربند ہے۔

پہلی بیوی مکمل آزاد

باخبر ذرائع نے بتایا کہ پہلی اہلیہ فاطمہ خالد کو مکمل آزادی حاصل ہے ، انہوں نے سوڈانی عوام کی طرف سے ان کی ہمدردی اور رواداری کا زبردست فائدہ اٹھایا۔

عمرالبشیر کی دوسری بیوی ایک میجر جنرل کی بیوہ ہے۔ وداد کی شادی میجر جنرل ابراہیم شمس الدین سے ہوئی تھی ، جو اپریل 2001 میں ہوائی جہاز کے حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ مارچ 2002 میں اس نے اپنی شادی البشیر سے کردی تھی۔ عمرالبشیر نے مغربی خرطوم کےنواحی علاقے الجریف میں وداد کے گھر میں اس سے ملاقات کی تھی۔ شادی کے بعد وہ اسے خرطوم میں کی کافوری کالونی میں واقع اپنی رہائش گاہ پرلے آئے تھے۔

عمرالبشیر کی پہلی بیوی فاطمہ خالد کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ صحافی حاتم الیاس نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو بتایا کہ فاطمہ وداد کی طرح عوامی خاتون نہیں بلکہ وہ بہت کم منظرعام پرآتی تھیں۔ وہ ایک روایتی دیہاتی طرز زندگی گذارتی ہیں۔

الیاس نے بتایا کہ فاطمہ نےعمرالبشیر کے صدر بننے کے بعد خود کوتبدیل کرنے کی مزاحمت کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اپنی روایتی ثقافت سے باہر نہیں جائیں گی۔ مگروداد بابکرکا طرز عمل مختلف رہا۔ وداد ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے ہونے والی مہمات میں پیش پیش رہیں۔ انہوں نے سنہ 2010ء میں غربت کے خاتمے کے لیے'سند الخیریہ' نامی تنظیم قائم کی جس نے انہیں مزید شہرت عطا کی۔ اسی عرصے میں انہوں نے اپنے شوہر عمرالبشیر کی انتخابی مہم بھی حصہ لیا۔ کھلاڑیوں کو اپنے شوہر کی حمایت پرقائل کرنے کے لیے انہیں انتخابی مہم کے دوران سپورٹ یونیفارم میں بھی جلوہ گر دیکھا گیا۔

اس کے علاوہ قومی نوعیت کی تقریبات میں وداد کو اکثرعمرالبشیر کے ساتھ دیکھا جاتا۔

وداد کے خلاف الزام؟

ہفتے کی شام تک استغاثہ کے پاس وداد بابکر کے خلاف الزامات کا کوئی ثبوت نہیں پہنچا۔ البتہ عوامی حلقوں کی طرف سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے سوڈان میں ایڈز کا شکار بچوں کےعلاج اور بحالی کے لیے افریقی ممال کی قیادت کی طرف سے 40 ملین ڈالر کی رقم وصول کی تھی، جسے بعد ازاں اپنی تنظیم کے اکائونٹ میں منتقل کردیا تھا۔ یہ رقم ان کے شوہر کے خلاف جاری کیسز کی رقم سے زیادہ ہے۔ عمر البشیر پر 6.9 ملین یورو ، 351،770 ڈالر اور 5.7 ملین سوڈانی پاؤنڈ مالیت کی رقم پر قبضہ کرنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

سیاسی نقاد محمد عمر نصر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ انسداد بدعنوانی کے سابقہ قوانین بشیر کی اہلیہ وداد یا دیگر سرکاری عہدیداروں کے لیے نہیں بلکہ سابق عہدیداروں کے سرمائے کے تحفظ کے لیے بنائے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پراسرایت کے پردے میں صرف وداد بابکرکا نام نہیں بلکہ کئی اور پردہ نشین اس فہرست میں شامل ہیں۔

ہفتے کے روز عمر البشیر نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی اہلیہ وداد نے اپنی کار فروخت کرکے کافوری کالونی میں دو رہائشی پلاٹ خرید کیےلیکن وکیل اسامہ البلہ نے عمر البشیر کے بیان کو غیر منطقی قراردیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو یہ ثبوت پیش کیا گیا ہے کہ یہ ثبوت وداد کی ناجائز دولت اور مشکوک رقم کی پراسیکیوشن فراہم کرنے کے لئے کافی ہیں ، لیکن انہوں نے وضاحت کی کہ وداد پر بیرون ملک سرمایہ کاری اور قومی خزانے کے ناجائز استعمال کے دیگر الزامات کے لیے ثبوت کافی نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں