امریکا کا ایران پر’’ممکنہ غیرعلانیہ جوہری سرگرمیوں‘‘ کا الزام
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران پر’’ممکنہ غیرعلانیہ جوہری سرگرمیوں‘‘ کا الزام عاید کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) نے ایران سے پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی جوہری سرگرمیوں اور تحفظ کے بارے میں اس کے سوالوں کا جواب دے۔
مائیک پومپیو نے منگل کے روز ایک ٹویٹ میں کہا:’’ ایرانی نظام کی جانب سے آئی اے ای اے کے ساتھ مکمل تعاون سے گریز کے طرزِ عمل سے اس کی غیرعلانیہ جوہری سرگرمیوں یا مواد کے بارے میں سوال پیدا ہوئے ہیں۔‘‘
انھوں نے کہا کہ ’’ایران کا یہ طرزعمل اس کے چالیس سالہ جھوٹ پرمبنی کردار کے عین مطابق ہے۔دنیا اب اس دھوکے میں نہیں آئے گی۔ہم ایرانی نظام کو جوہری ہتھیار کے حصول کے کسی راستے پر چلنے نہیں دیں گے۔‘‘
The Iranian regime’s lack of full cooperation with @iaeaorg raises questions about possible undeclared nuclear material or activities. This fits into Iran’s 40-year pattern of lies. The world won’t fall for it. We will deny the regime all paths to a nuclear weapon.
— Secretary Pompeo (@SecPompeo) September 10, 2019
مائیک پومپیو کے اس انتباہ سے ایک روز قبل ہی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کی ایک اور خفیہ جوہری تنصیب کا انکشاف کیا تھا۔اسرائیل نے اس جگہ کا 2018ء میں تہران کے نواح میں ملنے والی دستاویز سے پتا چلایا تھا۔اسرائیل کے انٹیلی جنس ایجنٹوں نے ایک خفیہ کارروائی میں یہ دستاویزات حاصل کی تھیں۔
آئی اے ای اے کے سربراہ کورنل فروٹا نے گذشتہ روز ایران پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے متعلق اس کے تمام سوالوں کا فوری طور پر جواب دے۔عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے سوموار کو اپنے اجلاس میں اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ایران جدید سینٹری فیوجز نصب کررہا ہے اور اس نے ان سینٹری فیوجز 22آئی آر-4، ایک آئی آر-5، 30آئی آر-6 اور تین آئی آر-6 کو یا تو نصب کردیا ہے یا انھیں نصب کررہا ہے۔‘‘