.

ایران کا جان بولٹن کی رخصتی کے باوجود امریکا سے مذاکرات سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کی رخصتی کے باوجود واشنگٹن سے کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر ماجد تخت عروانچی نے کہاکہ ’’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کی رخصتی کے بعد ایران امریکا سے مذاکرات کی بحالی پر نظرثانی نہیں کرے گا۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ایران پرعاید پابندیوں کے برقرار رہنے کی صورت میں تو امریکا سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی کہا ہے کہ امریکا کی ایران کے خلاف جارحانہ جنگ پسندی ناکامی سے دوچار ہوگی۔انھوں نے ایک نشری تقریر میں کہا کہ وہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنےکی پالیسی کو ختم کرے۔ انھوں نے دھمکی دی کہ اگر ضروری ہوا تو ایران جوہری سمجھوتے کی مزید شرائط کو پورا نہیں کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اپنے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کوبرطرف کردیا تھا۔انھیں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اب وائٹ ہاؤس میں ان کی مزید خدمات درکار نہیں ہیں۔اس کے بعد وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔جان بولٹن نے ایران کے خلاف امریکا کی سخت گیر خارجہ پالیسی وضع کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔