.

آرامکو کی تنصیبات پر حملوں میں ایران ساختہ ہتھیار استعمال کیے گئے: سعودی سفیر

بقیق اور ہجرۃ خریص پر ڈرون حملے یمنی علاقے سے نہیں کیے گئے تھے:سلامتی کونسل کے نام خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں متعیّن سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے کہا ہے کہ تمام ابتدائی اشاروں اور علامتوں سے یہ ظاہر ہوا ہے،سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات پر حملے یمنی علاقے سے نہیں کیے گئے تھے۔

انھوں نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں عرب اتحاد کی تحقیقات کا حوالہ دیا ہے اورکہا ہے کہ سعودی آرامکو کی بقیق اور ہجرۃ خریص میں واقع تنصیبات پر حملوں کے لیے ایران ساختہ ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں۔

خط میں سعودی عرب کی جانب سے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ماہرین کو ان حملوں کی تحقیقات کے عمل میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔

عبداللہ المعلمی نے سعودی آرامکو کی دو تنصیبات پر حملوں کو بزدلانہ اور سنگین دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ ان سے سعودی عرب ، توانائی کی بین الاقوامی سپلائی اور عالمی معیشت کی سلامتی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے گذشتہ ہفتے کے روز سعودی آرامکو کی دو تنصیبات پر ڈرون حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن سعودی عرب ، عرب اتحاد اور امریکا نے ان کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔

عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بھی بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کا اسپانسر ایران تھا مگر یہ حملے یمن سے نہیں کیے گئے تھے جبکہ ایران نے ایسا ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

ترجمان نے سعودی آرامکو کی اہم تنصیب بقیق پر حملے کو عالمی معیشت پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ تیل تنصیبات پر حملوں کے لیے پچیس ڈرونز اور کروز میزائل استعمال کیے گئے تھے اورڈرون شمال سے جنوب کی سمت آئے تھے جبکہ یمن سعودی عرب کے جنوب میں واقع ہے اور اس کی سرحد سے متصل یمن کا شمالی صوبہ صعدہ حوثی باغیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سیدھے سبھاؤ ایران کو ان حملوں کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیرعہدہ دار کے مطابق ایران نے بقیق اور ہجرۃ خریص پرحملوں کے لیے قریباً ایک درجن کروز میزائل داغے تھے اور بیس سے زیادہ ڈرونز چھوڑے تھے۔ان کے ٹکرانے سے ان دونوں تنصیبات میں آگ لگ گئی تھی۔اس کے نتیجے میں آرامکو کی تیل کی پیداوار میں نصف تک کمی واقع ہوگئی تھی۔کمپنی نے گذشتہ چار روز کے دوران میں بقیق سے مصفا تیل کی پیداوار کو حملوں سے پہلے کی سطح پر بحال کردیا ہے۔