سعودی عرب کی سرحد پرحوثیوں کے حملے کی فوٹیج من گھڑت ہے: عرب اتحاد

یہ بدقسمتی کی بات ہے،میڈیا ذرائع حوثیوں کے بعض علاقوں پر کنٹرول سے متعلق بلاثبوت دعووں کونشر کررہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے حوثی باغیوں کی یمن کے ساتھ سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں سعودی فورسز پر ایک بڑے حملے کی فوٹیج کو جعلی اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عرب اتحادی فورسز نے حوثی ملیشیا کی یمنی فوج کے یونٹوں کو حملے میں نشانہ بنانے کی کوشش بنا دی ہے۔

کرنل ترکی المالکی سوموار کے روز سعودی دارالحکومت الریاض میں نیوزکانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ان سے جب حوثیوں کے مبیّنہ دعوے سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا:’’ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ علاقائی اور بین الاقوامی میڈیا کے بعض ذرائع حوثیوں کے بعض علاقوں پر کنٹرول سے متعلق بلاثبوت دعووں پر مبنی خبریں نشر کررہے ہیں۔یہ یقینی طور پر من گھڑت ہیں۔وہ (حوثی) اس طرح کے من گھڑت واقعات خود تخلیق کررہے ہیں تاکہ یمن ، خطے اور دنیا میں رائے عامہ پر اثر انداز ہوا جاسکے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ حوثی قبل ازیں بھی اس طرح کے من گھڑت دعوے کرچکے ہیں۔ماضی میں انھوں نے سعودی عرب کے شہر ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کنٹرول کا دعویٰ کیا تھا مگر عرب اتحاد نے ان کے اس دعوے کو غلط ثابت کردیا تھا اور وہ وقتاً فوقتاً ان کے اس طرح کے بے بنیاد دعووں کو غلط ثابت کرتا رہتا ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ عرب اتحاد کے میڈیا کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ حوثی ملیشیا کے ہر جھوٹے دعوے کی تردید کرتا رہے۔

حوثی باغیوں نے اتوار کو ایک ویڈیو فوٹیج جاری کی تھی۔ اس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انھوں نے یمن اور سعودی عرب کے درمیان واقع سرحدی علاقے میں سعودی فورسز پر ایک بڑا حملہ کیا ہے۔اس ویڈیو کو الجزیرہ اور بعض دوسرے چینلز نے حوثیوں کی ایک جنگی کامیابی کے طور پر نشر کیا ہے۔

کرنل ترکی المالکی نے نیوز بریفنگ میں مزید کہا کہ حوثیوں نے یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ کو بیلسٹک میزائل داغنے کے لیے اڈے کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں اسٹاک ہوم سمجھوتے کی کبھی پاسداری نہیں کی۔

یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان طے شدہ اس امن سمجھوتے میں الحدیدہ شہر میں جنگ بندی سے اتفاق کیا گیا تھا اور اس کی بندرگاہ اور دوسرے علاقوں سے حوثیوں کے انخلا کے بعد یمنی فوج اور اقوام متحدہ کی فورسزکو تعینات کیا جانا تھا۔

کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثی باغی عمران ، صعدہ اور دارالحکومت صنعاء سے سعودی علاقوں کی جانب میزائل داغ رہے ہیں مگر اس کے باوجود عرب اتحاد میں شامل ممالک یمنی عوام کو انسانی امداد مہیا کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

ترجمان نے اٹھارہ ستمبر کو نیوزکانفرنس میں کہا تھا کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر چودہ ستمبر کو حملے کا اسپانسر ایران تھا اور یہ یمن سے نہیں کیا گیا تھا جبکہ ایران نے یہ ثابت کرنے کی بھرپور سعی کی ہے کہ یہ حملہ یمن سے کہا گیا تھا۔

حوثیوں نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن کرنل ترکی المالکی نے ان کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کے لیے جو ڈرون استعمال کیے گئے تھے ، وہ حوثیوں کے ماضی میں استعمال شدہ ڈرونز سے مختلف تھے۔

امریکا اور سعودی عرب نے ایران کو آرامکو کی تنصیبات پرحملوں کا مورد الزام ٹھہرایا تھا لیکن ایران نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ ان حملوں سے متعلق ایک رپورٹ جاری کرے گا اور اس میں یہ واضح کیاجائے گا کہ ان کا یمن میں جاری جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں