"ہر وقت زیر زمین نہیں تھے"... اسرائیل کی حسن نصر اللہ کے بارے میں نئی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بیروت کے جنوبی مضافات میں سکیورٹی کمپاؤنڈ پر شدید فضائی حملوں میں حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصر اللہ کی ہلاکت کو دو سال گزرنے کے بعد، اسرائیلی ذرائع نے ان کی رہائش اور موجودگی کے مقامات کے بارے میں نئی معلومات کا انکشاف کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک کرنل نے "معاریف" اخبار کو بتایا کہ نصر اللہ ہر وقت زیر زمین پناہ گاہ میں نہیں رہتے تھے، بلکہ وہ برسوں تک جنوبی مضافات کے ایک رہائشی بلاک کی آٹھویں منزل پر بنے ایک "پینٹ ہاؤس" میں رہتے تھے۔

اسرائیلی فضائیہ کی یونٹ "نحلات بن یامین" میں اہداف کے بینک کے ڈائریکٹر کرنل (ریٹائرڈ) "س" نے کہا کہ سابق سربراہ کے بارے میں عام تاثر درست نہیں تھا۔

اپارٹمنٹس اور اہلیہ کے گھر کا تعین

انہوں نے تصدیق کی کہ اسرائیل نے نصر اللہ کی طویل عرصے تک نگرانی کی اور ان کے اپارٹمنٹس، ان کی اہلیہ کے گھر اور ہنگامی پناہ گاہوں کا تعین کر لیا تھا۔

کرنل نے بتایا کہ جب انہیں روپوش ہونے کی ضرورت ہوتی تو وہ اپنے لیے تیار کردہ ایک خصوصی لفٹ کا استعمال کرتے تھے۔

بیروت کے جنوب میں حسن نصر اللہ کو نشانہ بنائے جانے والے مقام سے - ایجنسیاں
بیروت کے جنوب میں حسن نصر اللہ کو نشانہ بنائے جانے والے مقام سے - ایجنسیاں

قتل کی تفصیلات

قتل کی تفصیلات کے حوالے سے کرنل نے انکشاف کیا کہ 27 ستمبر 2024 کو نصر اللہ کے قتل کے آپریشن کے دوران اسرائیلی طیاروں نے 83 بم گرائے، اتنی ہی تعداد بعد میں ان کے جانشین ہاشم صفی الدین کے خلاف استعمال کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس دن نصر اللہ کے پاس زیادہ محفوظ مقامات تھے، لیکن انہوں نے وہی پناہ گاہ منتخب کی جہاں انہیں نشانہ بنایا گیا۔ یہ کثیر المنزلہ عمارت کے نیچے ایک گہری زیر زمین پناہ گاہ تھی۔

حزب اللہ کے سابق رہنماؤں حسن نصر اللہ اور ہاشم صفی الدین کی تصاویر اٹھائے ہوئے ایک گاڑی، جو پچھلے سال بیروت کے مضافات میں اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے گئے تھے - روئٹرز 23 فروری 2025
حزب اللہ کے سابق رہنماؤں حسن نصر اللہ اور ہاشم صفی الدین کی تصاویر اٹھائے ہوئے ایک گاڑی، جو پچھلے سال بیروت کے مضافات میں اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے گئے تھے - روئٹرز 23 فروری 2025

کرنل نے مزید بتایا کہ حملہ چند سیکنڈ تک جاری رہا اور طیاروں نے میزائل فائر کیے تاکہ پناہ گاہ کے اندر موجود افراد کو باہر نکلنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا "آپریشن سے قبل میں نے ہوم فرنٹ کمانڈ کی ریسکیو یونٹ کے کمانڈر سے پوچھا کہ انہیں اسی طرح کی تباہی والی جگہ تک پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا؟

انہوں نے جواب دیا چھ گھنٹے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ لبنانی کم منظم ہیں، اس لیے میں 12 گھنٹے تک کسی بھی امدادی کوشش کو روکنا چاہتا تھا۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ نصر اللہ مر جائیں، چاہے براہ راست چوٹ یا خون بہنے سے اور یا آکسیجن کی کمی کے سبب دم گھٹنے سے۔"

لبنان میں حسن نصر اللہ کی ایک تصویر - روئٹرز
لبنان میں حسن نصر اللہ کی ایک تصویر - روئٹرز

کرنل نے تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج نے صرف پناہ گاہ کو ہی نہیں بلکہ اس کے اوپر موجود رہائشی عمارت کو بھی تباہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے بعد ریسکیو کے لیے آنے والے بلڈوزروں کو بھی نشانہ بنایا گیا تاکہ کسی کو زندہ بچنے کا موقع نہ ملے۔

واضح رہے کہ 2024 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپوں کے دوران، جنہیں حزب اللہ نے "غزہ کی پٹی کی حمایت کی جنگ" کا نام دیا تھا، اسرائیلی طیاروں نے بیروت کے جنوبی مضافات پر شدید حملے کیے اور پورے کے پورے علاقے تباہ کر دیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں