سپاہِ پاسدارانِ انقلاب یمنی حوثیوں کو امداد مہیا کررہی ہے: ایرانی آرمی چیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران کے چیف آف آرمی اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے اعتراف کیا ہے کہ سپاہِ پاسداران انقلاب یمن کی حوثی ملیشیا کو مدد مہیا کررہی ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق میجر جنرل باقری نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ہم حوثیوں کو مشاورت اور دانشورانہ امداد دے رہے ہیں اور سپاہِ پاسداران انقلاب ایران اس معاملے کی ذمے دار ہے۔‘‘

ان کے بہ قول ’’ایران تو یمنی حوثیوں کو مزید امداد مہیا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ایسا کر نہیں پا رہا ہے کیونکہ یمن میں چیزیں ذرا مختلف ہیں۔‘‘انھوں نے یمن کا شام اور عراق کی صورت حال سے موازنہ کیا ہے جہاں ایران بلا روک ٹوک دخیل ہے۔انھوں نے یمنی عوام سے ہمدردی جتلاتے ہوئے کہا کہ’’ایران آخر تک ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔‘‘

ایرانی فوج کے سپہ سالار نے دعویٰ کیا کہ ’’آج یمن مکمل محاصرے کی زد میں ہے۔اس کے تمام راستوں کو بند کردیا گیا ہے اور وہاں ادویہ تک لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔اس صورت حال میں کوئی کئی میٹر لمبے میزائل یمن میں کیسے بھیج سکتا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ ایران نے نومبر 2018ء میں پہلی مرتبہ یمنی تنازع میں ملوث ہونے کی تصدیق کی تھی۔ تب پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد علی جعفری نے کہا تھا کہ ایران یمن میں اپنے اتحادیوں کو مشاورتی امداد مہیا کررہا ہے۔

ایران پر یمن میں حوثی باغیوں کو متعدد مواقع پر نقد رقوم اور عسکری معاونت مہیا کرنے کے الزامات عاید کیے جاچکے ہیں جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے ایران کے خلاف یمن میں حوثی باغیوں کو ہتھیار مہیا کرنے کےثبوت فراہم کیے ہیں۔

عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے 31مئی 2019ء کو ایران کی جانب حوثی ملیشیا کو ڈرونز ، دھماکا خیز مواد سے لدے جہاز اور میزائل مہیا کرنے کے ثبوت پیش کیے تھے۔اس کے علاوہ انھوں نے ایرانی ماہرین کی حوثیوں کو تربیت دینے اور سعودی عرب کی جانب بیلسٹک میزائل داغنے کی جگہ کے ثبوت دیے تھے۔

یمنی حوثیوں نے چودہ ستمبر کو سعودی آرامکو کی تیل کی دو تنصیبات پر ڈرون حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن سعودی عرب اور امریکا نے ان کے اس دعوے کو مسترد کردیا تھا۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے حوثیوں سے ان حملے کے بعد مذاکرات کرنے والے دو سعودی عہدے داروں کے حوالے سے بتایاتھا کہ حوثیوں نے ایران کے ایماء پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی تاکہ اس کو کور مہیا کیا جاسکے۔ تاہم امریکا اور عرب اتحاد نے ایسے ثبوت پیش کیے تھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ ڈرون حملے یمن سے نہیں بلکہ خود ایران نے اپنی سرزمین سے کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں