.

الریاض معاہدہ یمن تنازع کے جامع حل کی جانب اہم قدم ہے: سلامتی کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمنی حکومت اور عبوری کونسل کے درمیان الریاض میں طے پانے والے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ فریقین کے درمیان متذکرہ معاہدہ منگل کے روز سعودی دارلحکومت الریاض میں طے پایا تھا۔

سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ معاہدہ یمن قضیے کے جامع سیاسی حل کی جانب ایک مثبت اور اہم پیش رفت ہے۔ عالمی ادارے نے یمن سے متعلق معاہدہ کرانے کے سلسلے میں سعودی عرب کی مصالحتی کوششوں کو بھی سراہا ہے۔ سلامتی کونسل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یو این ایلچی کو یمنیوں نے درمیان مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے لئے ہر طرح کا تعاون فراہم کیا جائے۔ نیز متعلقہ فریق یمنی قضیے کے حل کے سلسلے میں اسٹاک ہوم معاہدے پر عمل درآمد کریں۔ سلامتی کونسل نے مزید کہا ہے کہ ہم یمن کی آزادی، وحدت اور علاقائی سلامتی کا احترام کرتے ہیں۔

الریاض معاہدہ

یاد رہے کہ سعودی عرب کی پشتی بانی میں حوثی ملیشیاؤں کے خلاف تشکیل پانے والا اتحاد تعاون اور شراکت داری کا نیا باب ہے جس کے ذریعے حوثی بغاوت کو ناکام بنانے سے متعلق کوششوں کو مجتمع کرتے ہوئے جنوبی یمن میں باغیوں سے آزاد کرائے گئے علاقوں میں تعمیر اور ترقی کے کاموں کو دوبارہ شروع کرنے میں مدد ملے گی۔

الریاض معاہدے کے اہم نکات میں یہ بات شامل ہے کہ معاہدے پر دستخط کے سات دنوں کے اندر اندر یمن کی آئینی حکومت عدن واپس لوٹ کر تمام فوجی انتظامات کو وازت داخلہ اور دفاع کے تحت یکجا کیا جائے گا۔ نیز شمالی اور جنوبی یمن میں برابر نمائندگی کی بنیاد پر ٹیکنوکریٹ حکومت قائم کی جائے گی۔

اہم معاہدہ: امریکا

درایں اثنا امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی بدھ کے روز ایک بیان میں یمنی حکومت اور عبوری کونسل کے درمیان طے پانے والے الریاض معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔

انھوں نے اپنے بیان میں الریاض معاہدے کو ’اہم معاہدہ‘ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ تمام فریق مل کر تنازع کے خاتمے اور یمنی عوام کے شایان شان قیام امن کی کوششیں کریں گے۔

مائیک پومپیو نے سعودی عرب اور اس کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، یمنی صدر منصور ہادی اور ان کی حکومت، یو اے ای حکومت کیہ ان کوششوں کا شکریہ ادا کیا ہے جو انھوں نے اس اہم معاہدے پر دستخط کے ضمن میں کیں۔ پومپیو کے بقول یہ سہولت کاری یمن کے جامع سیاسی حل کی خاطر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے کی جانے والی کوششوں کو بڑھاوا دے گی۔

واضح رہے کہ حوثی مخالف یمنی حکومت اور عبوری کونسل کے درمیان الریاض معاہدہ منگل کے روز سعودی عرب میں طے پایا تھا۔ الریاض میں ہونے والی معاہدے پر دستخط کی تقریب میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، یمنی صدر عبد ربہ منصور ھادی اور یو اے ای کے ولی عھد محمد بن زاید بھی موجود تھے۔

بین الاقوامی برادری اور عرب ممالک نے یمن کے استحکام کے ضامن الریاض معاہدہ کرانے پر سعودی عرب کے کردار کی بے حد تعریف ہی ہے۔