فرانس نے ایران کو جلی کٹی سنادی،مگر اسرائیل کی سکیورٹی کا غیرمتزلزل حامی
فرانسیسی حکومت نے ایران پر زوردیا ہے کہ وہ شام کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے اقدامات سے گریز کرے لیکن ساتھ ہی اس نے اسرائیل کی سکیورٹی کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے شام میں ایران اور شامی فوج کے مختلف اہداف کو حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شام سے آنے والے راکٹوں کے جواب میں یہ فضائی حملے کیے ہیں۔
فرانسیسی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان ایجنز وان دیر موہل نے بدھ کو آن لائن بریفنگ میں اسرائیل کی شام میں اس جارحیت کے باوجود اس کو فرانس کی جانب سے سکیورٹی کے نام پر اپنی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انھوں نے کہا:’’فرانس اس موقف کا اعادہ کرتا ہے کہ شام میں جاری بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔مشرق اوسط میں کشیدگی کو بڑھاوا دینے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ فرانس ایران سے بھی یہ کہتا ہے کہ اس کو شام میں عدم استحکام کی کسی بھی سرگرمی سے گریز کرنا چاہیے۔‘‘
ترجمان نے ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں ہلاکتوں کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور ایرانی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کا احترام کرے۔
دریں اثناء ایران کی وزارتِ خارجہ نے تہران میں متعیّن سوئس سفیر کو طلب کیا ہے اور ان سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ایرانی مظاہرین کی حمایت میں حالیہ بیانات کی وضاحت طلب کی ہے۔
وزارتَ خارجہ نے سوئس سفیر کو باور کرایا ہے کہ امریکا کے مظاہرین کے حق میں سرکاری بیانات ایران کے داخلی امور میں ننگی مداخلت ہیں۔واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست سفارتی تعلقات استوار نہیں ہیں اور تہران میں سوئٹزرلینڈ کا سفارت خانہ ہی امریکی مفادات کی ترجمانی اور نمایندگی کرتا ہے۔