ہالینڈ کی عدالت نے داعشی جنگجوئوں کے بچوں کی واپسی مسترد کردی
ہالینڈ کی ایک اپیل عدالت نے ماتحت عدالت کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا کہ حکومت کو ان بچوں کو واپس کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے جن کی مائیں شدت پسند گروہوں میں شامل ہونے کے لیے شام چلی گئی تھیں۔
جُمعہ کے روز جاری کردہ عدالتی فیصلے کے خلاف حکومت کو اپیل کا حق ہے۔عدالت اپنے فیصلے کی وجوہات آئندہ ماہ جاری کرے گی۔
وزیر انصاف فریڈ گرہارس نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گر خواتین ان کے ملک سے 'داعش' میں شامل ہونے کے لیے گئی تھیں انہیں اب واپس نہیں لانا چاہیے۔ عدالت نے حکومت کے فیصلے کی تائید کی ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان خواتین نے اپنے بچوں کے ساتھ یا بچوں کے بغیر 'داعش' کے علاقے میں سفر کرنے اور دہشت گرد تنظیم میں شامل ہونے کا انتخاب کیا ہے۔ حکومت انہیں اس علاقے سے واپس نہیں کرے گی۔
خیال رہے کہ وکلاء نے ہالینڈ کی 23 خواتین اور ان کے 56 بچوں کی ملک میں واپسی کا مطالبہ کیا تھا تاہم حکومت نے داعش میں شمولیت کی غرض سے شام کا سفر کرنے والی خواتین اور ان کے بچوں کو واپس نہ لانے کا عزم کیا ہے۔
-
الھول کیمپ سے داعشی خواتین اور بچوں کےفرار کی کوشش ناکام
شام میں سیرین ڈیموکریٹک فورس نے الھول کیمپ سے 'داعش' کی خواتین کو فرار کرنے کی ...
مشرق وسطی -
برطانوی تاریخ میں پہلا ’داعشی‘ خواتین سیل
برطانیہ کی ایک عدالت نے حال ہی میں ایک 18 سالہ لڑکی کے خلاف ٹرائل کی تیاری مکمل ...
بين الاقوامى -
عراق میں 6 ترک داعشی خواتین کو سزائے موت
عراق کی ایک فوجی عدالت نے زیرحراست چھ ’داعشی‘خواتین جنگجوؤں کو سزائے ...
مشرق وسطی