.

امریکا کی ریاست نیو جرسی میں مسلح جھڑپ ، پولیس افسر سمیت چھے افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ریاست نیو جرسی کے جرسی شہر میں مسلح جھڑپ میں ایک پولیس افسر سمیت چھے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔پولیس افسروں اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں مرنے والوں میں تین راہگیر بھی شامل ہیں۔

جرسی سٹی کے پولیس چیف مائیکل کیلی نے بتایا ہے کہ فائرنگ دو مقامات پر کی گئی ہے۔اس کا آغاز ایک قبرستان سے ہوا تھا جہاں ایک پولیس افسر کو گولی مار کر موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔اس کے بعد یہ کوشر سپر مارکیٹ میں جاری رہی تھی جہاں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ ان میں دو حملہ آور بھی شامل ہیں۔

مسٹر مائیکل کیلی نے مزید بتایا کہ ’’ہمارے افسروں پر کئی گھنٹے تک فائرنگ کی جاتی رہی تھی۔شہر کے مکینوں نے بھی مختلف علاقوں سے فائرنگ اور سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

البتہ وہ یہ بتانے سے قاصر رہے ہیں کہ فائرنگ کیونکر شروع ہوئی تھی۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ قبرستان میں مارے گئے پولیس افسر نے بعض ’’برے لوگوں‘‘ کو روکنے کی کوشش کی تھی۔

شہر کے تحفظ عامہ کے ڈائریکٹر جیمز شیاکا کاکہنا ہے کہ حکام اس واقعے کو دہشت گردی قرار نہیں دے رہے ہیں لیکن ابھی اس کی تحقیقات جاری ہے۔مسلح افراد سے جھڑپ میں دو اور پولیس افسر زخمی ہوئے تھے لیکن انھیں ابتدائی طبی امداد کے بعد اسپتال سے فارغ کردیا گیا تھا۔

دریائے ہڈسن کے کنارے واقع شہر جرسی میں فائرنگ کا آغاز دوپہر کے وقت ہوا تھا۔اس سے شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا اور نزدیک واقع اسکول سیکرڈ ہارٹ کی حفظ ماتقدم کے طور پر تالا بندی کردی گئی تھی۔

سوات ٹیم ، ریاستی پولیس اور وفاقی ایجنٹوں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر تحقیقات شروع کردی تھی اور پولیس نے علاقے کا محاصرہ کر لیا تھا۔ وہاں شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی پہنچ گئی تھی اور انھوں نے اپنے اپنے موبائل فونز سے واقعے کی تصویر کشی اور منظر کشی شروع کردی تھی۔

انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ان ویڈیوز کے مطابق شہر کی ایک مرکزی شاہراہ پر مسلح حملہ آوروں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا اور کافی دیر تک گولیان چلنے اور سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔