.

الجزائر میں صدارتی انتخابات کا انعقاد،احتجاجی مظاہرے، کئی پولنگ مراکز نذر آتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں جمعرات کو صدارتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ پولنگ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل دارالحکومت الجزائر میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور انھوں نے شہریوں سے ووٹ نہ ڈالنے کی اپیل کی۔

مظاہرین نے ان صدارتی انتخابات کو ڈھونگ قرار دیا ہے اور وہ ان کے انعقاد سے قبل ملک میں وسیع تر اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں۔پولیس نے الجزائری دارالحکومت میں لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہاں مزید مظاہرین آگئے اور پھر پولیس کو وہاں سے پسپا ہونا پڑا ہے۔

الجزائریوں نے ملک کے قبائلی علاقے میں واقع شہروں ، قصبوں اور دیہات میں بھی صدارتی انتخابات کے خلاف احتجاج کیا ہے۔قبائلی بربر نسل کا آبائی علاقہ ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے بعض پولنگ مراکز کو نذر آتش کردیا اور ان کے دروازے بند کردیے تھے۔

ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ اس پہاڑی علاقے میں واقع شہر بجایا میں احتجاجی مظاہرین نے بیلٹ بکسوں کو آگ لگادی اور انتخابی فہرستوں کو ضائع کردیا ہے۔ الجزائر میں ہزاروں شہریوں نے بدھ کو بھی ان صدارتی انتخابات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

وہ ان انتخابات کے انعقاد سے قبل اہم حکومتی عہدے داروں سے مستعفی ہونے اور اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں جبکہ الجزائری فوج اور ملک کی سیاسی اشرافیہ ان صدارتی انتخابات کو آگے بڑھنے کے لیے اہم قراردے رہی ہے ۔

الجزائر کے نگران صدر عبدالقادر بن صلاح نے شہریوں پر زوردیا کہ وہ انتخابی عمل میں حصہ لیں اور اپنے ضمیر کے مطابق آزادانہ طور پر اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دیں تاکہ ملک کو موجودہ صورت حال سے نکالا جاسکے۔

ان صدارتی انتخابات میں پانچ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ان کے کاغذات کی حکام نے مکمل جانچ پرکھ کے بعد منظوری دی تھی لیکن وہ تمام ماضی میں معزول صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے دور حکومت میں کسی نہ کسی عہدے پر فائز رہے تھے۔

الجزائری شہری فروری سے ملک میں رائج نظام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ان کے احتجاج کے نتیجے ہی میں سابق مطلق العنان صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو اپریل میں اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔وہ سابق دورِ حکومت سے اہم عہدوں پر فائز شخصیات کی موجودگی میں ملک میں نئے صدارتی انتخابات کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

احتجاجی مظاہرین یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ سیاسی اداروں کی تنظیم نو کی جائے۔ ان کا یہ موقف تھا کہ موجودہ حالات میں اگر صدارتی انتخابات ہوتے ہیں تو پھر صورت حال جوں کی توں رہے گی اور کوئی حقیقی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔

یادرہے کہ قبل ازیں الجزائر میں چار جولائی کو صدارتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ان میں حصہ لینے کے لیے کوئی مناسب امیدوار سامنے نہیں آیا تھا۔اس کے بعد انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے اورملک آئینی بحران سے دوچار ہوگیا تھا کیونکہ قائم مقام سربراہ ریاست عبدالقادر بن صلاح کی نوّے روزہ مدت جولائی کے اوائل میں ختم ہوگئی تھی۔اس کے بعد ایک پارلیمان میں ان کی مدت میں اضافے کے لیے آئین میں ترمیم کی تھی۔