بھارت:شہریت کے متنازع قانون کے خلاف پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں 23 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بھارت کی شمالی ریاستوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ہفتے کے روز مزید نوافراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے ہیں ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے وزیراعظم نریندر مودی کے متعارف کردہ شہریت کے نئے متنازع قانون کے خلاف گذشتہ ہفتے سے جاری احتجاجی مظاہروں میں مرنے والوں کی تعداد 23 ہوگئی ہے۔

بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں شہریت کے اس نئے متنازع قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ریاست کے پولیس ترجمان پراوین کمار نے آج احتجاجی مظاہروں میں نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جس کے بعد اس ریاست میں ہلاکتوں کی تعداد پندرہ ہوگئی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔وہ گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے تھے اور پھر جان کی بازی ہار گئے ہیں لیکن یہ فائرنگ پولیس نے نہیں کی تھی بلکہ اس نے تو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے صرف اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے۔

شمالی شہروں رام پور ، سمبھل ، مظفر نگر ، بجنور اور کان پور میں مظاہرین نے دس سے زیادہ گاڑیوں کو نذر آتش کردیا ہے اور انھوں نے ایک پولیس تھانے کو بھی آگ لگا دی ہے۔

نئے متنازع قانون کے تحت بھارت میں غیر قانونی طور پر مقیم ہندو اورعیسائی اگر یہ ثابت کردیں کہ انھیں پڑوسی ممالک بنگلہ دیش ، پاکستان اور افغانستان میں ناروا سلوک کا سامنا تھا اور ان کے انسانی حقوق سلب کے جارہے تھے تو انھیں شہریت دے دی جائے گی لیکن اس قانون کا اطلاق مسلمانوں پر نہیں ہوگا اور وہی اس کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ اترپردیش میں وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ہی کی حکومت ہے۔اس نے احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے انسداد دہشت گردی اسکواڈ کو متاثرہ شہروں میں تعینات کردیا ہے اور ریاست میں انٹرنیٹ کو مزید اڑتالیس گھنٹے کے لیے معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اترپردیش میں جمعہ کو احتجاجی مظاہروں میں چھے افراد ہلاک ہوگئے تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ریاست کے مختلف شہروں اور قصبوں میں چھے سو سے زیادہ افراد کوحفظ ماتقدم کے طور پر حراست میں لے لیا ہے۔پانچ افراد کو سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف تیرہ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

پولیس نے ریاست میں برطانوی دور کے قانون کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر بھی پابندی عاید کررکھی ہے۔بھارت کے دوسرے علاقوں میں بھی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے اس قانون کا نفاذ کیا گیا ہے۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام کے سب سے بڑے شہر گوہاٹی میں آج سیکڑوں خواتین نے متنازع قانون کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا ہے۔ان کا کہناہےکہ اس متنازع قانون کی تنسیخ تک ان کا پُرامن احتجاج جاری رہے گا۔

دریں اثناء ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کوالالمپور سمٹ کے اختتام پر نیوزکانفرنس میں بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے نفاذ پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ’’بھارت ایک سیکولر ریاست ہے۔لوگوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر شہریت کے حصول سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیے۔مسلمانوں کو مروجہ طریق کار پر عمل درآمد کے باوجود شہری بننے سے روکنا میرے خیال میں بالکل غیر منصفانہ ہے۔‘‘

بھارتی پارلیمان نے گذشتہ بدھ کو شہریت کے نئے متنازعہ قانون کی منظوری دی تھی۔اس کے تحت بھارت میں تین ہمسایہ ممالک سے 31 دسمبر 2014 کو یا اس سے پہلے داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت دے دی جائے گی لیکن اگر وہ مسلمان ہوں گے توانھیں یہ حق نہیں دیا جائے گا۔

اس قانون کے نفاذ کے بعد بھارت میں شہریوں کی سرکاری فہرستوں میں سے قریباً بیس لاکھ افراد کے ناموں کو نکال دیا گیا ہے، ان میں قریباً نصف ہندو اور نصف مسلمان ہیں۔ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی شہریت کا ثبوت فراہم کریں، ورنہ انھیں غیرملکی سمجھا جائے گا۔

بھارت کی اسلامی جماعتوں اور تنظیموں ، حزب اختلاف اور انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ نیا متنازعہ قانون وزیراعظم نریندرمودی کے ہندتوا کے ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے تحت ملک کے بیس کروڑ مسلمانوں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے اور انھیں ان کے بنیادی انسانی اور آئینی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں