.

الریاض کنسرٹ میں تین فن کاروں کو چاقوگھونپنے والے مجرم کو سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ایک عدالت نے دارالحکومت الریاض میں گذشتہ ماہ ایک لائیو کنسرٹ کے دوران میں تین فن کاروں کو چاقو گھونپنے والے ملزم کو قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل الاخباریہ نے اتوار کو اس کے خلاف عدالت کے فیصلے کی اطلاع دی ہے اور مزید بتایا ہے کہ عدالت نے اسی مقدمے میں ملوث ایک 33سالہ شخص کو قصور وار قرار دے کر ساڑھے 12 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ شخص یمن سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس کی مکمل شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

الاخباریہ نے قبل ازیں اسی ماہ ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ چاقو گھونپنے والا مشتبہ ملزم ( اب مجرم) یمن میں القاعدہ سے ملنے والے احکامات پر عمل کر رہا تھا۔سعودی سکیورٹی فورسز نے اس شخص کو اسٹیج پر چاقو حملے کے فوری بعد گرفتار کر لیا تھا۔

واضح رہے کہ 11 نومبر کو الریاض میں واقع شاہ عبداللہ پارک میں رنگا رنگ تفریحی میلے میں ایک کنسرٹ کا انعقاد کیا جارہا تھا اور فن کار اپنے فن کا مظاہرہ کررہے تھے۔اس دوران میں سزائے موت پانے والے حملہ آور نے تین فن کاروں کو چاقو کے وار کرکے زخمی کردیا تھا۔

تب سرکاری میڈیا نے یہ اطلاع دی تھی کہ اس چاقو حملے کی زد میں دومرد اور ایک عورت آئی تھی۔انھیں فوری طور پر ابتدائی طبی امداد مہیا کی گئی تھی۔ان کے زخم خطرناک نہیں تھے اور ان کی حالت بہتر بتائی گئی تھی۔

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ٹویٹر صارفین نے اس چاقو حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی اور انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وسیع تر اصلاحات پر مبنی ویژن 2030ء کے تحت مملکت میں منعقدہ تفریحی پروگراموں کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔