.

عمر البشیر کے عہد میں سوڈان کو اخوان نے کیسے یرغمال بنائے رکھا؟

البشیر کے اخوان کے ساتھ تعلقات پر'العربیہ'پرسلسلہ واردستاویزی پروگرام پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں تین عشروں تک عمر البشیر برسر اقتدار رہے۔ ان کے دور اقتدار مین سوڈان میں اخوان المسلمون کو اعلیٰ ترین اور کلیدی عہدوں پرتعینات کیا گیا۔ العربیہ چینل نے پہلی بار عمر البشیر اور اخوان المسلمون کے لیڈروں کے اعترافات پرمبنی ایک سلسلہ وار دستاویزی پرگرام شروع کیا ہے جس میں سوڈان میں اخوان المسلمون کےعروج وزوال کی تفصیلات بیان کی جا رہی ہیں۔

'العربیہ' چینل پر'عظیم راز' کےعنوان سے پیش کی جانے والی دستاویزی سیریز میں سنہ 1989ء میں سوڈان میں برپا ہونے والے انقلاب اور اس کے بعد ملک پر اخوان المسلمون کے قبضے کا احوال بیان کیا جا رہا ہے۔

اس سیریز میں سوڈان کی اسلامی تحریک کے خفیہ اجلاسوں کےدوران ہونے والی بحث کی ریکارڈنگ بھی شامل ہے جو العربیہ چینل کو خفیہ ذرائع سے ملی ہے۔ ان خفیہ ریکارڈنگ میں سوڈان میں تیس سال اخوان المسلمون کی سرگرمیوں کا پتا چلتا ہے۔

سوڈان میں خفیہ اور بعض اعلانیہ طور پر اخوان المسلمون کے ہونے والے اجلاسوں میں دوسرے عرب ممالک کے اخوانی ارکان بھی موجود ہوتے۔ اس کے علاوہ دوسرے ملکوں اور بیرون ملک تنظیموں کی طرف سے سوڈان کی اخوان المسلمون کی مالی مدد کی تفصیلات کا بھی پتا چلتا ہے۔

جمعہ کے روز 'العربیہ' چینل پراس سیریز کی پہلی قسط نشر کی گئی جسے' اخوان المسلمون کے اسرار کبریٰ' کا نام دیا گیا۔ اس پہلی قسط میں بتایا گیا ہے کہ عمر البشیر اور اخوان المسلمون کے عناصر نے سوڈان میں اقتدار پرکیسے قبضہ کیا تھا اورریاستی اداروں کو کس طرح اپنے ہاتھ میں لیا؟۔

دستاویزی سیریز میں عمر البشیر کو یہ اعتراف کرتے سنا جا سکتا ہے کہ سنہ 1989ء کے انقلاب کے بعد اخوان المسلمون کے رہ نما حسن الترابی اور علی عثمان طہ سمیت نے اخوان کے پروردہ لوگوں کو کلیدی عہدوں پرتعینات کرنے میں مدد فراہم کی تھی۔ انقلاب کے وقت عثمان طہ ایک عسکری گروپ کے کمانڈر تھے۔

عمرالبشیر تسلیم کرتے ہیں کہ انقلاب کے بعد چھ لاکھ افراد کو ملازمتوں سے ہٹا کران کی جگہ اخوانی عناصر کو بھرتی کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اخوانی عناصر کے لیے اسلحہ چلانے کی صلاحیت کی شرط بھی لازمی تھی اور وہ سمع وطاعت کے اصول پرکام کرتے تھے۔

دستاویزی فلم میں سابق نائب صدر علی عثمان طہ تسلیم کرتے ہیں ایک خفیہ اجلاس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ اگر حالات ایک بارپھر خراب ہوجائیں تو ہم دوبارہ اقتدار پرقبضہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

دستاویزی سیریز میں عمرالبشیر رجیم میں اقتدار پرفائز رہنے والے عہدیداروں کے تیونس، موریتانیہ، مراکش اور فلسطین میں اخوان المسلمون کی مدد کے اعترافات بھی شامل ہیں۔