.

سعودی بارڈر سیکیورٹی فورسز نے یوکرینی سیلر کو کیسے بچایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوب مغرب میں جازان گونری کے علاقے 'فراسان' میں بارڈر سیکیورٹی فورسز نے ایک یوکرینی جہاز پر سوار سیلر کو بچالیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے شمال مغرب جازان کے جزیرے فراسان کے قریب منگولیا کے پرچم بردار ایک بحری جہاز پر موجود عملے نے سعودی حکام کو بتایا کہ عملے کا ایک رکن گردے کی تکلیف میں ہے۔ سعودی نیول حکام نے بارڈر پولیس کے ساتھ مل کر اس کی مدد اور 35 سالہ سیلر کو بحیرہ احمر سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔

سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق بارڈر فورس کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل مسفر بن غنام القرینی نے بتایا کہ مملکت کے بحری سرچ اور ریسکیو کے لیے بین الاقوامی کنونشن مجریہ 1979ء کے تحت فورسز سمندر میں اپنی ڈیوٹی پرمامور تھیں اس دوران جدہ سرچ اینڈ ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر (جے ایم آر سی سی) کو جہاز کی آپریٹنگ کمپنی (ایم وی سٹرلنگ پام) کا فون آیا ہے منگولیا کے پرچم بردار جہاز کے عملے میں سے ایک 35 سالہ یوکرائنی ملاح کو گردوں تکلیف ہے۔ اس کی طبی مدد کی ضرورت ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا وہ 'کرونا' سے متاثر ہے یا اس سے محفوظ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوری طور پر جدہ میں 'جے ایم آر سی سی' کوآرڈینیشن سینٹر کی ہدایت پر مذکورہ جہاز جو کہ جزیرہ فرسان کے قریب تھا کے پاس پہنچ کر عملے کے بیمار رکن کو وہاں سے نکالا اور اس کی ضروری طبی مدد کی۔

مریض کو بدھ کی صبح جازان کے الحیات میڈیکل اسپتال منتقل کردیاگیا۔ وہاں پر اس کا کرونا وائرس (19-کوویڈ) کے حوالے سے بھی معائنہ کیا گیا۔ مریض کی حالت اب بہتر ہے اور اس کے بارے میں تمام ضروری طبی اقدامات کے بارے میں شپنگ ایجنٹ کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔