صافر آئل ٹینکر سے رساؤ کے سنگین نتائج کے ذمے دار حوثی ہوں گے: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت خارجہ نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ تعاون کرے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی تنظیم کو "صافِر" آئل ٹینکر کی مرمت کی اجازت دی جائے جس کو حوثیوں نے بحر احمر کے پانی میں قبضے میں لے رکھا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اگر مذکورہ بحری آئل ٹینکر سے تیل کا رساؤ ہوا تو اس تمام تر سنگین نتائج کے علاوہ انسانوں اور ماحول کو پہنچنے والے تمام تر ضرر کی ذمے داری حوثیوں پر عائد ہو گی۔

حوثی ملیشیا کی جانب سے بین الاقوامی تکنیکی ٹیم کو مذکورہ آئل ٹینکر کی مرمت سے روکے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران بارہا خبردار کیا جا چکا ہے کہ یمن کے ساحلوں کے نزدیک تیل کے رساؤ کی صورت میں جلد ہی ایک ماحولیاتی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ یہ دنیا میں تیل کے رساؤ کے سب سے بڑے واقعات میں سے ہو گا۔

صافر آئل ٹینکر اس وقت یمن کے صوبے الحدیدہ میں راس عیسی کی بندرگاہ سے تقریبا 4.8 سمندری میل کے فاصلے پر لنگر انداز ہے۔ راس عیسی تیل کے ذخیرے کے حوالے سے دنیا کی تیسری بڑی تیرتی بندرگاہ ہے۔ اس کی مجموعی گنجائش 30 لاکھ بیرل ہے۔

صافر آئل ٹینکر 44 برس پرانا ہے۔ یہ 1988 سے کام کر رہا ہے۔ اس کا مجموعی وزن 4.10 لاکھ ٹن ہے۔

صافر میں اس وقت دس لاکھ بیرل کے قریب تیل موجود ہے۔ لہذا تیل کے رساؤ کے نتیجے میں ایک بڑا المیہ جنم لے گا۔

یہ آئل ٹینکر مارچ 2015 سے تعطل کا شکار ہے۔ اس کی وجہ بوائلرز کو چلانے والے تیل کی عدم فراہمی تھی۔ اس کے نتیجے میں جہاز میں تیل کا ٹینک گل رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں