.

ترکی: فوج کے مزید 275 اہل کاروں کی گرفتاری کے احکامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حکام نے فوج کے 275 اہل کاروں کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ان افراد پر شبہہ ہے کہ ان کا تعلق "فتح اللہ گولن" نیٹ ورک سے ہے۔ انقرہ حکومت کا یہ کہنا ہے کہ جولائی 2016 میں ناکام انقلاب کی کوشش کی منصوبہ بندی اسی نیٹ ورک نے کی تھی۔ فوجی انقلاب کی اس کوشش کے دوران 250 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

ترک حکام جولائی 2016 سے اب تک اُن افراد کے تعاقب میں ہیں جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ وہ امریکا میں مقیم تُرک مبلغ فتح اللہ گولن کے پیروکاروں میں سے ہیں۔

فتح اللہ گولن انقلاب کے معاملے میں اپنے کسی بھی کردار کی تردید کرتے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے سابق حلیف گولن 1999 سے امریکا کے شہر پنسلوینیا میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ترکی کی خبر رساں ایجنسی اناضول نے منگل کے روز بتایا کہ پولیس نے ملک کے مغرب میں ازمیر شہر سے اپنے آپریشن کی رابطہ کاری انجام دی اور 22 صوبوں میں لوگوں کو نشانہ بنایا۔ پولیس 145 مشتبہ افراد کو پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے۔

ایجنسی کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ مشتبہ افراد نے گولن کے دیگر پیروکاروں کے ساتھ عمومی ٹیلی فونوں کے ذریعے رابطے کیے۔ یہ لوگ ملٹری اکیڈمیز کے ساتھ منسلک ہوئے اور خیال ہے کہ ان میں اکثریت اب بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے رواں ہفتے کے آغاز پر جنوب مشرقی حصے میں واقع شہر دیار بکر سے فوج کے 16 اہل کاروں کو گرفتار کیا۔

دوسری جانب استنبول کی پولیس نے بتایا ہے کہ استغاثہ نے فوج کے 44 اہل کاروں کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ ان میں ایک میجر اور تین لیفٹننٹس کے علاوہ ڈاکٹرز اور ٹیچرز شامل ہیں۔ علاوہ ازیں آٹھ صوبوں میں پھیلی ہوئی کارروائی میں 33 افراد پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں۔

اسی طرح ایک دوسری کارروائی میں 32 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں 25 کا تعلق فضائیہ سے ہے۔

مغرب میں ترکی کے حلیف ممالک نے گولن کے پیروکاروں کے خلاف تعاقب کے اقدامات کے دائرہ کار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم ترکی نے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی خطرے کے حوالے سے یہ ضروری جواب ہے۔

ایردوآن کئی برس سے گولن کے حامیوں پر الزام لگاتے آئے ہیں کہ وہ پولیس، عدلیہ، فوج اور دیگر ریاستی اداروں میں دراندازی کے ذریعے ایک "ایک متوازی" ریاست قائم کر رہے ہیں۔

انقلاب کی کوشش کے بعد سے ترکی کے حخام 80 ہزار کے قریب افراد کو حراست میں لے چکے ہیں جو عدالتی کارروائی کے منتظر ہیں۔ علاوہ ازیں تقریبا 1.5 لاکھ ریاست کے ملازمین اور فوج کے اہل کاروں کے خلاف برطرفی یا معطلی کے فیصلے جاری ہو چکے ہیں۔