.

مقتول معمر قذافی اورانتہاپسند مبلغ کا سعودی ، کویتی حکومتوں کو ہٹانے پر تبادلہ خیال: آڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت سے تعلق رکھنے والے مبلغ اور مصنف حاکم المطیری نے لیبیا کے سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی سے کویت اور سعودی عرب کی حکومتوں کا تختہ الٹنے کے بارے میں کئی مرتبہ تبادلہ خیال کیا تھا۔

اس بات کا انکشاف قطر کے حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے کارکن خالد الہیل کی جاری کردہ نئی آڈیو ریکارڈنگ سے ہوا ہے۔حاکم المطیری کویت کی اُمہ پارٹی کے سربراہ ہیں۔یہ ایک غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعت ہے اور قدامت پرست اور انتہا پسندانہ نظریات کی حامل ہے۔ ماضی میں انھوں نے کویت میں سلفی تحریک کے قیام میں بھی حصہ لیا تھا۔ وہ امریکا اور سعودی عرب کےناقد رہے ہیں۔

افشا کردہ اس نئی ریکارڈنگ میں قذافی نے کویت اور سعودی عرب کے حکمران خاندانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ خلیجی ممالک میں کوئی جمہوریت نہیں ہے۔

لیبی آمر نے الصباح خاندان پر کویت اور اس کے عوام کو اپنی مِلک اور غلام بنانے کا الزام عاید کیا اور اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ آل سعود خاندان کو ’’جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔‘‘

حاکم مطیری نے ان کی اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان دونوں ممالک میں منتخب حکومتوں کی تشکیل کی ضرورت ہے۔اس کے جواب میں کرنل قذافی یہ کہتے ہیں: ’’آزادی کے بعد ،جو خاندان ہمارے آقا بنے ہوئے ہیں، انھیں ختم کردیا جائے گا۔‘‘

خالد الہیل نے دوسری دسیوں صوتی ریکارڈنگز کی طرح یہ نئی آڈیو بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہے لیکن العربیہ اس کے مصدقہ ہونے کی تصدیق نہیں کرسکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق معمر قذافی عالمی لیڈروں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو کو اس طرح خفیہ طور پر ریکارڈ کر لیا کرتے تھے اور 2011ء میں ان کی حکومت کے خاتمے اور اندوہناک قتل کے بعد سے وقفے وقفے سے ایسی ریکارڈنگز جاری کی جارہی ہیں۔

سات جولائی کو خالد الہیل نے کرنل قذافی اور حاکم المطیری کی ایک اور ریکارڈنگ جاری کی تھی۔اس میں ان دونوں کو کویت اور سعودی عرب میں ارباب اقتدار کا تختہ الٹنے کے منصوبے پر گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا تھا۔

اس ریکارڈنگ میں حاکم المطیری مقتول معمر قذافی سے یہ کہا تھا کہ ’’وہ خلیج عرب میں حکمران خاندانوں کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں، خواہ یہ کام خطے میں عوام میں اصلاحات کے منصوبے کے بارے میں شعور بیدار کرکے کیا جائے یا روحِ انقلاب کی تیاری کی جائے یا انقلاب برپا کرکے کیا جائے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا:’’ہمیں ان حکومتوں کی تبدیلی میں ایک مسئلے کا سامنا ہے۔اگر ہم ان کا تختہ نہیں الٹ سکتے تو پھر ان کے اختیارات کو کم کردیں تاکہ ان کی وہی حیثیت ہو جو برطانیہ میں (ملکہ اور شاہی خاندان کی) ہے،(وہاں) خاندان حکمرانی نہیں کرتے کیونکہ وہ اس کے حق دار ہی نہیں۔‘‘وہ کویت اور سعودی عرب کے حکمران خاندانوں کا حوالہ دے رہے تھے۔

قطری کارکن قبل ازیں معمر قذافی کی قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی اور سابق وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم کے ساتھ بات چیت کی آڈیو ریکارڈنگز جاری کرچکے ہیں لیکن ان کی تاریخوں کا کچھ معلوم نہیں کہ یہ کب ریکارڈ کی گئی تھیں۔ایسی ہی ایک آڈیو میں قطر کی خارجہ پالیسی اور الجزیرہ کی ادارتی پالیسی زیر بحث آئی تھی۔

اس کے علاوہ قطر کے سابق وزیراعظم اور کرنل قذافی کو سعودی عرب کے بارے میں منصوبوں پر گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا تھا اور انھوں نے سعودی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔شیخ حمد بن جاسم نے اس ریکارڈنگ کی صحت سے انکار نہیں کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ کرنل قذافی کو ممنون احسان کرنے کے لیے الجزیرہ کی ادارتی پالیسی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے 2013ء میں اقتدار اپنے بیٹے اور موجودہ امیر شیخ تمیم کے حوالے کردیا تھا۔شیخ حمد بن جاسم تب اپنے حکومتی عہدوں سے دستبردار ہوگئے تھے اور اِس وقت مبیّنہ طور پر ان کے موجودہ امیر سے کشیدہ تعلقات بتائے جاتے ہیں۔

ان خصوصی گفتگوؤں سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ قطر معمر قذافی کے ساتھ مل کر کس طرح اپنے ہمسایہ خلیجی عرب ممالک کے لیڈروں کے خلاف سازشیں کرتا رہا ہے اور اس نے خود کیسے لیبیا کے انقلابی نظام کے ساتھ تعلقات استوار کررکھے تھے۔قطر نے آج تک ان آڈیو ریکارڈنگز کی صحت سے انکار نہیں کیا ہے۔

معمر قذافی 1969ء سے 2011ء تک لیبیا کے مطلق العنان صدر رہے تھے۔ان کی حکومت مسلح بغاوت کے نتیجے میں ختم ہوگئی تھی اور باغیوں نے انھیں بے دردی سے قتل کردیا تھا۔

یادرہے کہ جون 2017ء میں سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، مصر اور بحرین پر مشتمل گروپ چار نے قطر سے تعلق رکھنے یا اس سے امداد حاصل کرنے والے 59 افراد اور اداروں پر دہشت گردی کی معاونت کے الزام میں پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان میں حاکم المطیری کا نام بھی شامل تھا۔