.

جدہ میں 200 سال پرانا گھر... سیاحت اور ثقافت کے متوالوں کی منزل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ کے محلے "المظلوم" میں واقع تاریخی گھر "بیتِ باعشن" دو صدیوں کی کہانی پیش کرتا ہے۔ اس دوران بحیرہ احمر کے کنارے واقع شہر نے وقت کے ساتھ ترقی کرتے ہوئے جدید صورت اختیار کر لی تاہم یہ گھر اپنے تاریخی محل وقوع کے ساتھ سیاحتی اور ثقافتی پہلو سے لوگوں کی آمد کا مرکز رہا۔

سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کی رپورٹ کے مطابق یہ گھر ثقافتی اہمیت کا حامل ہے جو تاریخ کے استحضار اور اُس زمانے کے سماجی اور اقتصادی نمونے کی تصویر پیش کرتا ہے۔ بیتِ باعشن تین منزلوں پر مشتمل ہے۔ اس کے برآمدوں میں تاریخی ورثے سے متعلق طغرے، مخطوطات، کرنسیاں، ڈاک ٹکٹ اور ایک لائبریری موجود ہے۔

ان کے علاوہ یہاں جدہ شہر کی تاریخ کے بارے میں عرب ادیب عبدالقدوس الانصاری کا تیار کردہ انسائیکلوپیڈیا بھی رکھا گیا ہے۔ اس گھر کی تعمیر 1237 ہجری میں ہوئی تھی۔ گھر کی بیٹھکوں کی دیواروں پر قرآن کریم کی آیات مبارکہ نظر آتی ہیں جن کو دو خطاطوں محمد طاہر كردی اور اسعد محمد حبال نے تحریر کیا۔ دونوں شخصیات دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں۔

بیتِ باعشن کا جدہ میں علمی اور ثقافتی تحریک کو بھرپور بنانے میں اپنا کردار رہا ہے۔ یہاں طویل برسوں تک ادیبوں اور دانش وروں کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران اس گھر نے قدیم مخطوطات اور دستاویزات کو اپنے دامن میں سمیٹنے کے علاوہ ایک زبردست قسم کا کتب خانہ بھی متعارف کرایا۔ بعد ازاں تاریخی، علمی اور شرعی علوم اور مصادر پر مشتمل یہ کتب خانہ معروف پبلشنگ ہاؤس دارہ ملک عبدالعزیز کو تحفے میں دے دیا گیا۔

مخصوص تعمیراتی طرز کے اس گھر کو جدہ کے تاریخی محلے کے قدیم ترین گھروں میں سے قرار دیا جاتا ہے۔