.

سعودی عرب : قدری ٹیکَس میں اضافے کے بعد افراطِ زر کی شرح 6۰1 فی صد بڑھ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں جولائی میں افراط زر کی شرح میں گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6۰1 فی صد اضافہ ہوا ہے۔سعودی عرب کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق افراطِ زر کی شرح قدری ٹیکس (ویٹ) میں تین گنا اضافے کی وجہ سے بڑھی ہے۔

جولائی میں افراط زر کی شرح 0۰5 فی صد تھی۔اس میں جنوری کے بعد یہ سب سے کم ترین سالانہ اضافہ تھا لیکن یکم جولائی کے بعد سعودی عرب نے ویٹ کو 5 فی صد سے بڑھا کر 15 فی صد کردیا ہے۔

سعودی عرب کے ادارہ شماریات کے مطابق بیشتراشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور اس سے افراطِ زر کی سالانہ شرح میں اضافے کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔خوراک کی اشیاء کی قیمتوں میں سب سے زیادہ 14۰7 فی صد اضافہ ہوا ہے۔اس کے بعد ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 7۰3 اضافہ ہوا ہے۔

کیپٹل اکنامکس کے ایک ماہراقتصادیات جیسن ٹووے کا کہنا ہے کہ اب کہ ویلیوایڈڈ ٹیکس کے اثرات2018 ء کے مقابلے میں محدود رہے ہیں۔ تب پہلی مرتبہ یہ ٹیکس متعارف کرایا گیا تھا۔چناں چہ ہم سعودی عرب میں سال بہ سال کے جائزے کی بنیاد پر اس ماہ میں افراطِ زر کی شرح میں 5۰5 سے 6۰0 فی صد تک اضافے کی توقع کرتے ہیں اور آیندہ سال میں بھی اس کی کم وبیش یہی شرح برقرار رہے گی۔

سعودی عرب دنیا میں تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔اس نے مئی میں اضافی قدری ٹیکس کی شرح کو تین گنا کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس اقدام کا مقصد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور کرونا وائرس کی وَبا کے منفی معاشی مضمرات سے مرتب ہونے والے مالی خسارے کو پورا کرنا تھا۔