.

لیبیا : طرابلس میں قومی اتحاد کی حکومت کے خلاف مسلسل دوسرے روز مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں پست معیارِ زندگی اور حکام کی بدعنوانیوں کے خلاف شہریوں نے سوموار کو مسلسل دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے۔

مظاہرین نے طرابلس میں جی این اے کے صدر دفاتر پیپلزہال عمارت کے نزدیک جمع ہوکر احتجاج کیا ہے۔بعض کارکنان نے اس احتجاجی مظاہرے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہیں۔ان میں پیپلز ہال کی عمارت کے نزدیک پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری دیکھی جاسکتی ہے۔

اتوار کی شب طرابلس اور مصراتہ میں بھی شہریوں نے پست معیار زندگی اور کرپشن کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ذرائع کے مطابق جی این اے نواز ملیشیاؤں نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی تھی اور احتجاجی مظاہروں کے بعد ان میں حصہ لینے والوں کی پکڑ دھکڑ شروع کررکھی ہے۔

لیبی کارکنان نے سوشل میڈیا پر طرابلس کے شہداء چوک میں احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز پوسٹ کی ہیں۔ان میں ایک ویڈیو میں مظاہرین یہ کہتے ہوئے سنے جا سکتےہیں:’’لیبی یہاں موجود ہیں، وہ یہاں شہداء چوک میں آئیں گے۔‘‘

مقامی کارکنان نے اطلاع دی ہے کہ مظاہرین نے طرابلس میں ایک سرکاری عمارت کی دیواروں پر چڑھنے کی کوشش کی تھی لیکن سکیورٹی فورسز نے انھیں ہٹانے اور منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی ہے۔

طرابلس میں قائم جی این اے کی حکومت کے وزیراعظم فائزالسراج نے جمعہ کے روز لیبیا کے تمام علاقوں میں جامع جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔دوسری جانب لیبی قومی فوج ( ایل این اے) کے ترجمان احمد المسماری نے ان کے اعلان کردہ سیزفائر کو محض ایک میڈیا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

انھوں نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ’’ترکی کے جنگی بحری جہاز سرت کی جانب رواں دواں دیکھے جاسکتے ہیں۔‘‘