.

امریکی جامعات میں جانے کے لیے چینی سفارت کاروں کو اب محکمہ خارجہ سے منظوری لینا ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں متعیّن چینی سفارت کاروں اور دوسرے عہدے داروں کے میزبان ملک کی جامعات میں غیرمجاز داخلے پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کے روز اس پابندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی سفارت کاروں کو اب جامعات کے کیمپس میں جانے اور مقامی حکومت کے عہدے دارں سے ملاقات کے لیے محکمہ خارجہ سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ ’’ عوامی جمہوریہ چین ( پی آر سی ) نے برسوں سے اپنے ہاں کام کرنے والے امریکی سفارت کاروں پر مختلف قدغنیں عاید کررکھی ہیں۔یہ سفارتی اقدار سے بہت ماورا ہیں۔ چینی حکام نے منظوری کا ایک ’’مبہم نظام‘‘ وضع کررکھا ہے۔اس کا مقصد امریکی سفارت کاروں کو چینی عوام سے معمول کے روابط رکھنے اور کاروبار سے روکنا ہے۔‘‘

محکمہ خارجہ کی جانب سے واشنگٹن میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفارت کاروں کو چین میں ثقافتی تقریبات کی میزبانی یا سرکاری ملاقاتوں کے لیے بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’’ اب امریکا میں متعیّن عوامی جمہوریہ چین کے سفارت کاروں کو امریکی جامعات کے اندر جانے اور مقامی حکومت کے حکام سے ملاقاتوں کے لیے محکمہ خارجہ سے پیشگی منظوری لینا ہوگی۔‘‘

چینی سفارت خانے کے زیراہتمام ایسی ثقافتی تقریبات منعقد کرنے کی بھی منظوری لینا ہوگی جن کے شرکاء کی تعداد پچاس سے زیادہ ہوگی۔ نیز چینی مشن کی املاک سے باہر قونصلر کی تعیناتی کے لیے بھی محکمہ خارجہ کی منظوری درکار ہوگی۔

نیز امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ چینی سفارت خانے اور قونصلر کے سوشل میڈیا کے تمام اکاؤنٹس مصدقہ ہوں اور وہ مناسب طور پر عوامی جمہوریہ چین کے سرکاری اکاؤنٹس کے طور پر شناخت شدہ ہوں۔

محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ’’ یہ نئے اقدامات چین میں ہمارے سفارت کاروں پر عاید کردہ سخت قدغنوں کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔ ان کا مقصد امریکا میں چینی حکومت کی سرگرمیوں میں مزید شفافیت لانا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ امریکا اور چین کے درمیان پہلے ہی سفارتی کشیدگی پائی جارہی ہے اور اب ان نئے اقدامات سے اس تناؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔جون میں ٹرمپ انتظامیہ نے چین کو ریاست ٹیکساس کے دارالحکومت ہوسٹن میں واقع اپنا قونصل خانہ بند کرنے کا حکم دیا تھا اور اس کے عملہ پر حقوق دانش کی چوری کی الزام عاید کیا تھا۔

چین نے امریکا کے اس الزام کو توہین آمیز اور مضحکہ خیز قرار دے کر مسترد کردیا تھا اور اس کے ردعمل میں مغربی شہر چینگ ڈو میں واقع امریکی قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔گذشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ قرار دیا تھا کہ چین کی مالی معاونت سے چلنے والے زبان وثقافت کے پروگراموں کو چینی کمیونسٹ پارٹی کے غیرملکی مشن کے طور پر رجسٹر کیا جائے۔