.

امریکا:عُمانی سفیر کی اسرائیل کے یواے ای اوربحرین سے امن معاہدوں کی تقریب میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست عُمان کے امریکا میں متعیّن سفیر نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ امن معاہدوں پر دست خط کی تقریب میں شرکت کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینیر عہدہ دار نے العربیہ سے گفتگو میں عُمانی سفیر کی تقریب میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔اس تقریب کے میزبان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تھے اور ان کی طرف سے ہی عُمانی سفیر کو مدعو کیا گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس میں منگل روز منعقدہ اس خصوصی تقریب میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں پر دست خط کیے ہیں۔اس طرح ان دونوں ممالک کے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ طور پر معمول کے تعلقات استوار ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی اور امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان کے ساتھ الگ الگ امن معاہدوں پر دست خط کیے تھے۔ان کے علاوہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ’’معاہدہ ابراہیم‘‘ پر دست خط کیے تھے۔

اس طرح یواے ای ربع صدی کے بعد اسرائیل سے معمول کے تعلقات استوار کرنے والا تیسرا اور بحرین چوتھا ملک بن گیا تھا۔قبل ازیں عرب ممالک میں سے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات استوارتھے۔ مصر نے اسرائیل کے ساتھ 1979ء میں کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدہ طے کیا تھا۔اس کے بعد 1994ء میں اردن نے اسرائیل سے امن معاہدے کے بعد سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

عُمان نے یو اے ای اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے فیصلوں کا خیرمقدم کیا تھا۔

عُمان نے اسی ماہ کے اوائل میں اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ’’ بعض عرب ممالک کی جانب سے اختیار کردہ تزویراتی راہ سے فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے پیش رفت ہوگی اور پھر اس کی بنیاد پر امن قائم ہوگا۔ نیز مشرقی القدس دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہوسکے گی۔

واضح رہے کہ یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان 13 اگست کو امن معاہدے کے اعلان کے بعد 17 اگست کو عُمانی وزیر خارجہ یوسف بن علوی بن عبداللہ نے اپنے اسرائیلی ہم منصب گابی اشکنازی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی۔

تب عُمان میں امریکا کے سابق سفیر رچرڈ شمائرر نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مجھے یقین ہے،عُمان یو اے ای کے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے فیصلے کی حمایت کرے گا اور اس سلسلے میں مزید اقدامات کرے گا۔