.

فرانس میں سعودی سرجن کی اعصابی سرجری سے نفرت محبت میں کیسے بدلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

''سعودی جہاں ہوتے ہیں بارش کی طرح ہوتے ہیں جو برستے ہیں تو ہرایک کو نفع دیتے ہیں' ۔ یہ الفاظ فرانس میں‌ مقیم ایک سعودی سرجن ڈاکٹر ھانی الجھنی کے ہیں۔

ڈاکٹر الجھنی اعصاب اور پٹھوں کے امراض کےماہر اور سرجن ہیں مگران کے کیریئر کا قصہ بڑا دلچسپ اور حیران کن ہے۔ آج وہ طب کی جس شاخ یعنی اعصابی سرجری سے وابستہ ہیں کسی دور میں یہ شعبہ ان کے لیے قابل نفرت تھا مگر وقت نے بہت کچھ بدل دیا اور آج اس شعبے کے ساتھ ڈاکٹر الجھنی کو عشق کی حد تک پیاراور لگائو ہے۔

اپنے تعلیمی اور پیشہ وارانہ کیریئر کے بارے میں العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر الجھنی نے بتایا کہ اس نے فرانس میں کولمار اسپتال میں زیرعلاج ایک فرانسیسی نوجوان کی سرجری ڈاکٹر ولید بخاری کے ساتھ مل کرکی۔ یہ اسپتال فرانس میں طب کی تربیت اور مہارت کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر الجھنی کا کہنا تھا کہ میں فرانس کے ایک اسپتال میں پھٹوں کی سرجری کے سیکشن میں خدمات انجام دے رہا ہوں۔ یہ فرانس میں ریڑھ کی ہڈیوں کی سرجری کا دوسرا بڑا اسپتال ہے۔ مجھے فخر ہے کہ اس طبی مرکز میں فرانسیسیوں کے علاج کے لیے سعودی ڈاکٹر بھی تعینات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سعودی طلبا کی علمی میدانوں میں کامیابی کا سہرا ہماری حکومت کو جاتا ہے جس نے بیرون ملک ہمیں اعلیٰ تعلیم دلوانے کے مواقع فراہکم کیے۔ میں فرانس میں مقیم ہوں مگر میری شناخت ایک سعودی ڈاکٹر کی ہے۔ اس کے باوجود مجھے یہاں پر حکومت کی طرف سے وہ تمام مراعات فراہم کی گئی ہیں جو یہاں کے فرانسیسی باشندوں کو حاصل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر الجھنی نے بتایا کہ کولمار اسپتال کی عمارت دوسری عالم جنگ سے پہلے جرمنی کی سرحد کے قریب تعمیر کی گئی تھی۔ یہ دنیا کے مہنگے ترین علاقوں میں واقع ہے۔ دماغ اور اعصابی سرجری ایک مشکل کام ہے اور ہمارے لیے باعث فخر ہے کہ فرانسیسی باشندے ہم سعودی ڈاکٹروں کی صلاحیت اور مہارت پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں‌ نے بتایا کہ میں سعودی عرب کی القصیم یونیورسٹی میں میڈیکل کا طالب علم تھا۔ یونیورسٹی میں چوتھے سال تک میرا تعلیمی کیریئر شاندار رہا مگر پانچویں سال کے امتحان میں مجھے کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ میں‌نے اعصابی سرجری کا شعبہ اختیار کیا تھا۔ ناکامی سے مجھے مایوسی ہوئی اور مجھے اس شعبے سے نفرت ہوگئی۔ مگر میں‌ نے دوبارہ کوشش کی اور ممتاز نمبروں کے ساتھ امتحان پاس کرلیا۔ اس طرح اعصابی سرجری سے نفرت بالآخر عشق میں بدل گئی۔ آج میرا تخصص اور مہارت علاج کے اسی شعبے سے ہے۔