.

دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں ایرانی سفارت کار پر بیلجیم میں مقدمہ چلانے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیم کی ایک عدالت نے 27 نومبر سے ایک ایرانی سفارت کار کے خلاف دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام کے تحت مقدمہ چلانے کا اعلان کیا ہے۔ عدالتی ذرائع نے بتایا ایک ایرانی سفارتکار پر 2018 میں تہران مخالف لوگوں پر حملہ کرنے کی سازش میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ اس کے خلاف 27 نومبر سے بیلجیئم کی اینویر عدالت میں تین دیگر افراد کے ساتھ مقدمہ چلایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ اس مقدمے کی سماعت دو دن کے اندر 27 نومبر اور 3 دسمبر کو ہوگی اور بعد میں ججوں کی بات چیت کے بعد فوجداری عدالت اپنا فیصلہ جاری کرے گی۔

ایرانی اپوزیشن نے سفارت کار اسد اللہ اسدی کو اس سوچے سمجھے جانے والے حملے کا "ماسٹر مائنڈ" قرار دیا ہے۔ بیلجیئم کی عدلیہ نے سنہ 2018ء میں موسم گرما کے اوائل میں حملے کا انکشاف کیا تھا۔

اس وقت وہ ویانا میں ایرانی سفارت خانے میں تسلیم شدہ سفارت کار تھا۔ اسے جرمنی میں گرفتار کیا گیا اور اکتوبر 2018 میں بیلجیئم کے حوالے کردیا گیا جہاں اسے دو سال قید رکھا گیا ہے۔

اسدی پر "دہشت گردی کی نوعیت کے قتل کی کوششوں" اور ایک دہشت گرد گروہ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ اس کے ساتھ تین ایسے ساتھی بھی شامل ہیں جن پر ایک ہی طرح کے الزامات ہیں۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

ملزمان میں ایک ایرانی نژاد بیلجیئم جوڑا بھی ہے جسے 30 جون 2018 کو برسلز میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے قبضے سے 500 گرام دھماکہ خیز مواد اور ایک اسٹنک گن بھی برآمد کی گئی تھی۔

تحقیقات کے مطابق یہ سامان اسی دن مجاہدین الخلق (ایرانی حزب اختلاف) کے سالانہ اجتماع کے دوران پیرس کے علاقے میں ولیپینٹ میں حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ گرفتار جوڑے کے حوالے سے بیلجیئم کے فیڈرل پراسیکیوٹر نے انکشاف کیا تھا۔