.

کیا عمر البشیر کو بین الاقوامی عدالت کے حوالے کر دیا جائے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے معزول صدر عمر البشیر کے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حوالے کیے جانے کا معاملہ ابھی تک معلق ہے اور اس حوالے سے تفصیلات پر ابہام کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ البشیر پر دارفور میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب سے متعلق الزامات ہیں۔

اگرچہ سوڈان میں عبوری حکومت نے سابقہ طور پر یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ملزمان کو بین الاقوامی عدالت کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہی ہے تاہم ابھی تک اس حوالے سے کسی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ البتہ ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ بین الاقوامی عدالت کی پراسیکیوٹر جنرل فاتو بن سودا کا ہفتے کے روز سوڈانی دارالحکومت خرطوم کا دورہ متوقع ہے۔ اس ممکنہ پیش رفت نے مذکورہ معاملے کے حوالے سے ایک بار پھر کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

فاتو بن سودا اپنے سوڈان کے پہلے دورے میں بین الاقوامی عدالت کے 4 ارکان کے ہمراہ ایک وفد کی صورت میں خرطوم پہنچیں گی۔

توقع ہے کہ یہ وفد اپنے چار روزہ دورے میں سوڈان کے وزیر انصاف، اٹارنی جنرل، وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے علاوہ خود مختار کونسل اور بعض رضاکار تنظیموں سے ملاقات کرے گا۔

واضح رہے کہ عمر البشیر کو بین الاقوامی عدالت کے حوالے کرنے کے سلسلے میں خرطوم کی جانب سے ابھی تک کوئی فیصلہ کن موقف سامنے نہیں آیا۔

رواں سال فروری میں سوڈان کے وزیر اطلاعات نے اعلان کیا تھا کہ سابق صدر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سامنے قانونی کارروائی کے لیے ہیگ بھیجا جا سکتا ہے یا پھر سوڈان میں کسی خصوصی عدالت یا مخلوط عدالت میں ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2009ء میں عمر البشیر کے خلاف جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی سے متعلق جرائم کے حوالے سے چارج شیٹ جاری کی۔ اسی طرح عدالت نے سابق وزیر دفاع عبد الرحيم محمد حسين، سابق وزير داخلہ احمد ہارون اور جنجوید ملیشیا کے سربراہ علی قشیب کو بھی ملزم ٹھہرایا تھا۔

بعد ازاں 2010ء میں سوڈان کا معاملہ عالمی سلامتی کونسل میں پیش کر دیا گیا تھا۔ اس کا سبب یہ بتایا گیا کہ سوڈان بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا ہے۔